ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے شہر میں شرمناک واقعہ،ایس ایچ او سمیت 4پولیس اہلکار گھر میں گھس کر ڈیڑھ سالہ بچی پربندوق تان کر اس کی ماں کی برہنہ ویڈیو بناتے رہے،تین دن تک کیا ہوتارہا؟افسوسناک انکشافات

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) سندھ ہائیکورٹ میں منشات فروشی کا الزام لگا کر پولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون کو برہنہ کرنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت پر طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر ایس ایس پی ویسٹ کو شوکاز نوٹس جاری کرد یئے ۔ عدالت نے ایس ایچ او اقبال مارکیٹ کا تبادلہ کرتے ہوئے ان کی فیلڈ پوسٹنگ پر بھی پابندی لگا دی ۔ سندھ ہائیکورٹ نے منشات فروشی کا الزام لگا کرپولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون کو برہنہ کرنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت ہوئی ۔

عدالت نے معاملے پر ایس ایس پی ویسٹ کو فوری طلب کیا تاہم طلبی کے باوجود ایس ایس پی ویسٹ پیش نہیں ہوئے ۔ پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی ویسٹ کو شوکاز نوٹس جاری کیے ۔ متاثرہ خاتون نے ملوث ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کو شناخت کیا اور کہا کہ ایس ایچ او کے حکم پر مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بنائی گئی ، جس پر عدالت نے ایس ایچ او کا تبادلہ کرتے ہوئے ان کی فیلڈ پوسٹنگ پر بھی پابندی لگا دی ۔ عدالت نے ڈی آئی جی ویسٹ کو انکوائری مکمل کرکے 16 اپریل تک رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ۔ واضح رہے کہ عدالت میں خاتون کی جانب سے درخواست دائر کرائی گئی تھی ، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 24مارچ کو 17 پولیس اہلکار ان کے گھر میں گھسے ، جہاں ان کی بوڑھی والدہ کو علیحدہ کمرے میں بند کیا گیا ۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کی ڈیڑھ سالہ بیٹی پر بندوق تان کر انہیں برہنہ ہونے پر مجبور کیا ۔ خاتون کا اپنی درخواست میں مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکار 3 روز تک ان کے گھر میں رہے ۔ ساس کی جانب سے اعلی حکام کو شکایت کرنے پر ان کو رہائی ملی ۔ تاہم ایس ایچ او اقبال مارکیٹ انہیں منہ بند رکھنے کے لیے دھمکا رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…