ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کی چالاکیوں کا پول کھل گیا، واجد ضیا کیا کام نہ کر سکے ؟ ایسا انکشاف کر دیا گیا جس نے سارے معاملے کو نیا رخ دیدیا

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

اسلا م آباد (آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے خلاف جے آئی ٹی کی چالاکیوں کا پول کھل گیا، واجد ضیا نہیں بتاسکے کہ کہاں اور کس نے چوری کی، قوم جان چکی ہے اصل کیس کیا ہے، نیب ٹرائل کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن عوام کے سامنے الزامات کا بھانڈا پھوٹا ہے،ایک ہی تکرار ہے کہ نوازشریف کو سزا دو، مقدمہ اتنا ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) 2018کا الیکشن جیتتے نظرآرہے ہیں۔

پیر کو احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ اس کیس میں اس زمانے کی بات ہورہی ہے جب میں طالبعلم تھا،1978 میں سیاست میں نہیں آیا تھا،1962 میں 14 یا 15 سال کا تھا اس وقت ہماری آمدن زیادہ اور اثاثے کم تھے۔ انہوں نے کہا 1969 میں ہم نے لاہور میں 7 گھر بنائے تھے جو 90 کینال کی زمین پر یہ گھر بنے تھے،لندن فلیٹس کے مقابلے میں یہ بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا لاہور کے گھروں کے مقابلے میں لندن فلیٹس کی ویلیو کیا ہے اگر ہم نے لندن فلیٹس غیر قانونی پیسوں سے خریدے ہیں تو پھر لاہور کے گھروں کے حوالے سے بھی بتایا جائے۔نواز شریف نے کہا اگر یہ کام کرنے ہوتے تو موٹروے جیسے بڑے پراجیکٹ میں کرسکتے تھے۔نیب کے جتنے بھی کیسز ہیں سب رشوت اور کرپشن سے متعلق ہیں میرے خلاف واحد کیس ہے جس کا رشوت سے کوئی تعلق نہیں ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تک یہ نہیں بتایا جاسکا کہ کیا چوری ہوئی ہے ‘ کس کی چوری ہوئی ہے‘ کہاں چوری ہوئی اور کس نے چوری کی ہے اور کب چوری کی ہے۔ نہ چوری کے مال کا پتہ ہے نہ ہی مسروقہ مال برآمد ہوا ہے نہ ہی مال کے مالک کا دعویٰ سامنے آیا ہے اور نہ ہی کوئی بدعنوانی کا کوئی الزام ہے۔ ان تمام چیزوں کے باوجود مقدمہ چلایا جارہا ہے یہ ہر حال میں نواز شریف کو سزا دلوانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کیوں ‘ کیسے اور کس طرح سزا دی جائے گی‘ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) 2018 کے الیکشن جیتتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔چند افراد ہمیں روکنے میں لگے ہوئے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ مسلم لیگ (ن) الیکشن جیتے۔

مگر انسان کے فیصلے الگ ہیں اور خدا کے فیصلے الگ ہیں۔ یہ سینٹ کے انتخابات نہیں کہ ہمیں روک اجاسکے۔ عوامی طوفان ہے کون عوامی طوفان سے ٹکرا سکتا ہے سپریم کورٹ نے فیصلہ خیالی تنخواہ اور اقامہ پر کیا۔ میرا دل کہتا تھا کہ یہ اسی قسم کا کیس نیب عدالت کو بھجوا رہے ہیں اور میں یہ کیس نہیں لڑوں گا اس کیس کا بائیکاٹ ہونا چاہئے مگر ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا اور مقدمہ لڑا اگر ہم کیس نہ لڑتے تو جے آئی ٹی کے جھوٹ اور پانامہ بینچ کی حقیقت کبھی نہ کھلتی‘ ان کی حقیقت سامنے آچکی ہے اور پاکستان کے عوام کے سامنے الزامات کا بھانڈا ضرور پھوٹا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…