ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل آباد میں افسوسناک واقعہ ، اغواء کے بعد والد کی درخواست پر پولیس کی روایتی سستی کی بدولت جی سی یونیورسٹی کی طالبہ زیادتی کے بعد قتل

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جی سی یونیورسٹی کی طالبہ اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر دی گئی، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق طالبہ کی لاش گزشتہ روز ڈجکوٹ کی سیم نہر سے ملی تھی، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ عابدہ احمد کی موت گلہ دبانے سے ہوئی۔ عابدہ احمد کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تھانے کے چکر کاٹے لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

لڑکی کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایک سفید رنگ کی کرولا کار میں چار نامعلوم مسلح افراد جن کو سامنے آنے پر گواہان شناخت کر چکے ہیں وہاں آئے اور میری بیٹی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے زبردستی گن پوائنٹ پر کار میں سوار کر لیا اور اغوا کرکے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے جو کہ وہاں سے گزرتے افراد عبدالغفار ولد عبدالحق اور محمد انور ولد عبدالحمید نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، رات کو جب میری بیٹی گھر نہ پہنچی تو تلاش کرتے ہوئے پوچھ گچھ کے دوران وہاں سے گزرا تو وہاں موجود ایک رکشے والے عبدالغفار ولد عبدالحق نے بتایا کہ وہ چار بجے کے قریب وہاں سے ایک سواری محمد انور ولد عبدالحمید کو لے کر جانے لگا تو اس نے یہ وقوعہ دیکھ لیا، میری بیٹی کو نامعلوم افراد نے حرام کاری و جان سے مار دینے کی نیت سے اغوا کرکے زیادتی کی ہے، میری بیٹی کی زندگی شدید خطرے میں ہے فی الفور مقدمہ درج کرکے میری بیٹی کو برآمد کرکے اس کی جان بچائی جائے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ لیکن بیس سالہ طالبہ کے والد کی درخواست کے باوجود کچھ نہ کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے فیصل آباد میں 20سالہ طالبہ کے اغواکے بعد قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیراعلی نے کہاکہ طالبہ پر ظلم ڈھانے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔وزیراعلی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ملزمو ں کو جلد ازجلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…