ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم سے ملاقات میں عدلیہ نے کھویا کچھ نہیں پایا ہی ہے،ثاقب نثار

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات میں عدلیہ نے کچھ کھویا نہیں بلکہ کچھ پایا ہے‘ ایک فریادی میرے پاس آیا تھا میں نے ا سکی فریاد سنی ،میں اپنے ادارے اور وکلاء کو مایوس نہیں کروں گا۔ جمعرات کو مری میں غیر قانونی تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ملاقات کا تذکرہ ہوا جس پر چیف جسٹس نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ۔ لطیف کھوسہ صاحب

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ میٹنگ میں عدلیہ نے کچھ کھویا نہیں بلکہ کچھ پایا ہی ہے عدلیہ اور مجھ پر اعتماد کریں ایک فریادی چل کر آیا تھا میں نے اسکی فریاد سنی کیو نکہ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے۔ انہوں نے کہا عدلیہ کے اس ادارے اور اپنے اس بھائی پر اعتبار کریں، اپنے ادارے اور وکلا کو مایوس نہیں کروں گا،میں نے ان کے گھر جانے سے انکار کیا تھا۔ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان (وزیراعظم) کی تکلیف سے سب واقف ہیں‘ کیا جسٹس (ر) عبدالرشید والی صورتحال تھی ۔ وہ کسی کا نام نہیں لے رہے بلکہ فریادی کی بات کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…