ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ ’’میٹرو‘‘ سے بھی دو قدم آگے،بی آر ٹی کوریڈور کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اور کیا کچھ تعمیر کیاجارہاہے؟ حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ ٹرانسپورٹ کا جدید ترین منصوبہ ہے جس میں بسوں کے اعلیٰ معیار کے علاوہ عام شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ و معذور افراد کی سہولت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے انہوں نے منصوبے کیلئے بسوں کی فراہمی بروقت یقینی بنانے اورتمام انتظامات تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ نے چین سے بسیں درآمد کرنے والی کمپنی سے ریپڈ بسوں کا پہلا بیڑا بروقت

پشاور پہنچانے کی تحریری یقین دہانی حاصل کرنے اور بی آر ٹی کوریڈور کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پارکنگ پلازوں، بس سٹاپس، بس سٹیشنز اور سیکورٹی کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سمیت منصوبے کے اختتامی مراحل پر بھی سنجیدہ پیش رفت کی ہدایت کی نیز واضح کیا کہ کوریڈور کی تکمیل کے ساتھ ہی یہ تمام سہولیات ہر لحاظ سے مکمل ہونی چاہئیں۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منصوبے پر پیش رفت بالخصوص بسوں کی بروقت فراہمی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، کمشنر پشاور، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ ، متعلقہ صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں بی آرٹی کیلئے چین سے جدید ترین بسوں کی خریداری اور پراجیکٹ کے تحت دیگر اہم فیچرز پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیااور ضروری فیصلے کئے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پشاور کی خوبصورتی اور ٹرانسپورٹ بہتری کا عظیم منصوبہ ہے جسے چیلنج سمجھ کر مکمل کرنا ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ کوریڈور پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے اسلئے بسوں کی خریداری ، بس سٹاپس، سٹیشن، پارکنگ پلازوں سمیت دیگر سہولیات کی بر وقت تکمیل بھی لازمی ہے کیونکہ ان کے بغیر بی آر ٹی مکمل نہیں ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ۔ انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنانے کیلئے پوری تندہی اور قوت فیصلہ سے کام کریں اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اسے ترجیحی بنیادوں پرحل کریں اور تیز رفتاری سے آگے بڑھیں ۔ وزیراعلیٰ نے مختلف چوکوں اوریوٹرنز پر ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زوردیا تاکہ ٹریفک کا نظم و ضبط برقرار رکھا جاسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…