ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کہاں ہے حسین حقانی؟ گرفتاری کیلئے حکومت نے اب تک کیا، کیا؟ حیرت انگیز انکشاف، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت میں استفسار کیا ہے کہاں ہے حسین حقانی؟ کہاں ہیں ڈی جی ایف آئی اے ؟ بتایاجائے حسین حقانی کی گرفتاری سے متعلق کیا پیشرفت ہوئی؟ ۔ منگل کو میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا اور درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے

ایف آئی اے کے نمائندے سے استفسار کیا کہ سرکاری حکام نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خزانہ سے کوئی جواب نہیں ملا، وزارت خارجہ نے کچھ پیشرفت کی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ معاملہ زیادہ لمبا نہیں ہوگیا؟ بتایا جارہاہے کہ وہ وزارت خارجہ کی اپنی حدود ہیں ٗوزارت خارجہ کی کیا حدود ہیں ، بتایا جائے؟حکام نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ کو ایک بیگ ملنا ہے اس میں دستاویزات ہونگی ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ تشریف لے آئیں ، یہ دو ہی وزارتیں کیس سے متعلق ہیں ٗوزراء کو بلالیں یا پھر سیکریٹریز آجائیں ٗیہ پاکستان کی عزت کا معاملہ ہے ، ایک آدمی انڈر ٹیکنگ دے کر بھاگ گیا ہے ٗاب یہ اس عدالت کی بھی عزت کا معاملہ ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کو طلب کرکے پوچھا بتایا جائے امریکا میں موجود حسین حقانی کو کب تک گرفتارکرکے واپس لایاجائے گا، ہم ابھی تک ہونے والی پیشرفت سے مطمئن نہیں، اب تک جو ہوا وہ صرف آنکھ کا دھوکا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات ہورہی ہیں، ایف آئی آر کا اندراج بھی ہوچکاہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ایف آئی آر سے متعلق صرف ایک اسٹپ لیا گیاہے، ہم سمجھ رہے تھے وارنٹ بھی جاری ہوگئے ہونگے۔رانا وقار نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ انٹرپول سے دوبارہ رابطہ کرینگے، کچھ دستاویزات واشنگٹن میں موجود ہے

اس وجہ سے تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر وزیرداخلہ اور وزیر خارجہ کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹریز کے پاس زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بندہ عدالت کو یقین دہانی کرا کر ملک سے کیسے بھاگ گیا ٗ یہ عدالت کی عزت کا معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم حسین حقانی کو پاکستان لانے سے متعلق حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں اور حکومتی رپورٹس عدالت کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان نے دونوں سیکرٹریز کی طلبی کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے سیکرٹریز کو (آج) طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…