جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کا مریضوں کے لئے تجویز کردہ سستے نسخے اخبارات میں شائع کرنے کا حکم

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں غیر معیاری سٹنٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئندہ ہفتے خیبر پختونخوا کے دورے کا عندیہ دیدیتے ہو ئے کہا کہ ہو سکتا ہے آئندہ ہفتے کے پی کے جاؤں، دو بڑے صوبوں میں مثالیں قائم کررہے ہیں، پنجاب حکومت نے کچھ معاملات کو آوٹ سورس کیاہے ۔منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے غیر معیاری سٹنٹ کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایمر جنسی میں کونسی ضروری ادویات اور آلات ہونے چاہیے دل، بلڈ پریشر، اور شوگر کے مریضوں کے لئے ادویات کا نسخہ دیں اورنسخہ ایسا ہونا چاہئے کہ 5 سو روپے سے ایک ہزار تک کی ماہانہ ادویات آجائیں ڈاکٹر کے پاس جائیں تو 5 سے7 ہزار کا نسخہ بنا دیتے ہیں جس پر سرجن جنرل آف پاکستان ڈاکٹر اظہر کیانی نے دونوں نسخے عدالت میں پیش کر دیئے تو عدالت نے کہا کہ تمام حکومتیں اپنے ہسپتالوں میں متعلقہ ضروری ادویات اور آلات کو یقینی بنائیں اور مریضوں کے لئے تجویز کردہ سستے نسخے کو اخبارات میں شائع کیا جائے، کسی حکومت کو اس نسخے پر اعتراض ہو تو وہ درخواست داخل کرسکتے ہیں چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مریض کے ور ثا کو ادویات ہسپتال سے باہر سے لانا پڑتی ہیں مخصوص امراض کے مریضوں کو ادویات لیباریٹری ٹیسٹ کے بغیر نہیں ملتی چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے آئیندہ ہفتے خیبر پختونخواہ جاؤں ابھی دو بڑے صوبوں میں مثالیں قائم کررہے ہیں پنجاب حکومت نے کچھ معاملات کو آؤٹ سورس کیاہے ڈائیلاسز کے اخراجات کو بھی نیچے لانا ہے اوراب سٹنٹ کا علاج ساٹھ ہزار اور ایک لاکھ میں ہوگا بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…