ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آنے والے سالوں میں ملک کے اندر کون سی آفت آنیوالی ہے؟وفاقی حکومت نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن،سی پی پی ،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے آنیوالے برسوں میں ملک میں خشک سالی کے خطرات کی پیش گوئی کردی ہے ۔موسمیاتی تبدیلی اور بارشوں کی شرح میں ہونے والی کمی کے پیش نظر حکومت نے ملک کے مختلف حصوں میں خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر خشک سالی سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ تیار کرنے کا فٰیصلہ کیاہے تمام صوبائی حکومتیں خشک سالی کے اثرات

سے نبردآزماہونے کے لیے منصوبے تیار کریں گی۔وفاقی حکومت کی جانب سے محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے لیے مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل میں ممکنہ خشک سالیوں کے بارے میں تحقیقاتی کام کریں اوران کے اسباب کے لیے بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔دستاویزمیں بتایاگیاہے کہ وفاقی حکومت نے اس بات کابھی فیصلہ کیاہے کہ مستقبل میں خشک سالی کے انسدادکے لیے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں بھی نظر ثانی کی جائے گی اور پانی کے مناسب انتظام کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔دستاویز کے مطابق ممکنہ خشک سالی سے بچاؤ کیلئے کیے جانیوالے تحقیقاتی کام کامقصد مناسب ریاضیاتی ماڈل تیارکرناہے۔خشک سالی سے نمٹنے کے صوبائی حکومتیں ایسے تمام علاقوں کے بارے میں اپنے اپنے منصوبے تیارکریں گی جو قحط سالی کا شکار ہوسکتے ہیں اور اس کے اثرات سے شدید طور پر متاثرہوسکتے ہیں۔علاوہ ازیں ایک رپورٹ کے مطابق رواں صدی کے آخر تک سمندری پانی کی سطح دوگنا ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین موسمیات نے کہا کہ سمندروں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح خطرناک ہے اور اس کی موثر روک تھام نہ کی گئی تو 2100 تک سمندر میں پانی کی سطح دو گنا ہو جائے گی جس سے دنیا بھر

کے بہت سے ساحلی شہروں بشمول کراچی میں آباد کروڑوں افراد کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گئی۔ انہوں نے کہاکہ موسیماتی تبدیلیوں کے باعث برف پگھلنے کی رفتار میں مسلسل تیزی آ رہی ہے جس سے سمندر میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تغیرات سے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…