ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

لالچ نے باپ کو اندھا کر دیا، معصوم بیٹی کو موت کی گھاٹ اتار کر مخالفین پر قتل کا مقدمہ درج کرا دیا ،انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی، افسوسناک انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اوکاڑہ(این این آئی )زمین کے حصول او ر انتقام نے باپ کو اندھا کر دیا معصوم بیٹی کو موت کی گھاٹ اتار کر مخالفین پر قتل کا مقدمہ درج کرا دیا ،پولیس افسر کی فرض شناسی اور پیشہ وارانہ مہارت کے وجہ سے تین بیگناہ تختہ دار پر جانے سے بچ گئے ترجمان پولیس کے مطابق اوکاڑہ کے نواحی گاؤ ں چک36اے فورایل میں محمد یٰسین کا اپنے قریبی رشتہ داروں اللہ دتہ، زوہیب اور محمد صابر کے درمیان زمین کاتنازعہ چل رہا تھا جو کہ حد براری کے عنوان سے مقدمہ بازی بھی ہورہی تھی

سفاک باپ محمد یٰسین نے مقدمہ وار کو پھنسانے کے لئے اپنی معصوم بیٹی 11/12سالہ کائنات کو 30بور کے پستول سے فائرکرکے موت کی گھاٹ اتار دیا اور ڈرامہ رچانا شروع کردیاکہ اس کے مخالفین نے میری بیٹی کوہلاک کیاہے واقعہ کی اطلا ع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اسد علوی اور ایس ڈی پی او چودھری ضیاء الحق موقع پر پہنچ گئے جہاں کے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے تجربہ کار اور اندھے قتل تک کا سراغ لگانے والے پولیس آفیسرنے ڈی پی او حسن اسد علو ی کواپنے شک کا اظہار کیاجو ڈی پی او کو بھی محسوس ہورہا تھا کہ اسکا معاملہ کچھ اور ہے اس پر ڈی پی او اوکاڑہ حسن اسد علوی نے ایس ڈی پی او چودھری ضیاء الحق ، ایس ایچ اوشاہھبور نواب احمدڈوگر اور اے ایس آئی نعیم خان پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی اور حکم دیاکہ انہیں لمحہ بہ لمحہ تفتیش سے آگاہ کیاجائے قتل کے مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے جو بھی وسائل درکار ہوں بتایا جائے وسائل فراہم کر دیئے جائیں گے لیکن معصوم بچی کے قاتل جو بھی ہوں ان کوپولیس منطقی ا نجام تک پہنچائے بغیر سکون سے نہیں بیٹھے گی ایس ڈی پی او چودھری ضیاء الحق نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور جدید سائنسی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے تمام آپشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جس کے دوران کرائم سین یونٹ ، فارنزک سائنس لیبارٹری اور دیگر ذرائع کو استعمال کیا گی

ا تمام شواہد کی روشنی میں کم سن کائنات کاقاتل اس کا باپ ہی نکلا ملزم شواہد کو جھٹلا نہ سکا اور اقرار جرم پر مجبورہوگیا اور بتایاکہ وہ اللہ دتہ، زوہیب اور محمد صابر کوپھنسا کر حد براری کے مقدمہ کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا اور کوشش تھی کہ وہ قصاص کی مد میں بھی زمین اور رقم وصول کر لے گا جس پر اس نے اپنی ہی بیٹی کو 30بور پسٹل سے فائر مار کر ہلاک کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…