اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

مسلسل دیر تک بیٹھے رہنا دماغ و ذہن کیلئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے: ماہرین

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

میلبورن (مانیٹرنگ ڈیسک)  مسلسل دیر تک بیٹھے رہنا دماغ و ذہن کے لیے بھی بہت نقصان دہ ہوتا ہے اور یہ ذہنی تناؤ، بے چینی اور اداسی کی وجہ بن سکتا ہے۔ میلبورن میں ڈیکن یونیورسٹی سینٹر فار فزیکل اینڈ نیوٹریشن ریسرچ کی ماہرمیگن ٹیشین اور ان کے ساتھیوں کی نئی تحقیق بی ایم سی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بیٹھے رہنے سے انسان میں امراضِ قلب اور ذیابیطس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جب کہ یہ کئی نفسیاتی عارضوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ کمپیوٹر اسکرین نیند اڑانے والی ایک خوفناک شے ہے اور نیند کی کمی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے لوگوں کا رابطہ حقیقی دنیا سے کٹ جاتا ہے اور وہ دوستوں اور گھر والوں سے بات نہیں کرتے اور یوں ان میں ڈپریشن بڑھتا ہے جب کہ تیسری وجہ یہ ہے کہ زیادہ دیر بیٹھنے سے جسم کا دورانِ خون سست ہوجاتا ہے اور ہارمون درست کام نہیں کرتے اور یوں ذہنی تناؤ اور افسردگی بڑھتی رہتی ہے۔ اب تک بیٹھے رہنے اور ذہنی تناؤ کی یہ آٹھویں تحقیق تھی جس میں واضح ہوا کہ ورزش ذہنی صحت کے لیے بھی یکساں طور پر ضروری ہوتی ہے اور بیٹھے رہنے کا ازالہ یہی ہے کہ ہفتے میں 2 سے 3 گھنٹے ورزش کی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر اب بھی لوگ ورزش نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنا برا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…