ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی لاش معمہ بن گئی،مقتولہ نے آخری فون کال کس کو کی؟حیرت انگیزانکشاف،2سہیلیوں کو گرفتارکرلیاگیا

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

میرپورخاص(مانیٹرنگ ڈیسک) میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی،میرپورخاص کے علاقے ڈھولن آباد میں واقع گرلز ہاسٹل کی گلی سے پولیس نے مقامی افراد کی نشاندہی پر نوجوان لڑکی کی لاش تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کی جہاں اس کی شناخت 28 سالہ زہرش بنت ذوالفقار انصاری کے نام سے کی گئی جو میرپورخاص کے ہی نجی ڈینٹل میڈیکل کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی،

پولیس کے مطابق زہرش کے موبائل فون سے علی الصباح چوکیدار کے موبائل فون پر کال بھی کی گئی تھی جس کے بعد ہاسٹل کے چوکیدار عبدالرحمان، ہاسٹل میں رہائش پذیر زہرش کی 2 سہیلیوں فوزیہ اور آسیہ کوحراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔پولیس کے مطابق زہرش کے جسم پر چھلانگ لگانے کے بعد زمین پر گرنے کے نشانات موجود نہیں۔ لاش گلی کی نالی میں پڑی ہوئی تھی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔دوسری جانب کالج کے ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ ایچ آر الطاف حسین نے بتایا کہ زہرش خانپور پنجاب کی رہائشی تھی جس کے قریبی رشتے دار یوسف میرپورخاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔زہرش چند روز سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی جس کا کالج کی انتظامیہ نے ماہر نفسیات سے مختلف اوقات میں چیک اپ بھی کروایا اور طبیعت نہ سنبھلنے پر کچھ روز کے لیے یوسف کے گھر بھیج دیا تھا لیکن دو روز قبل ہی زہرش نے اپنے رشتے دار سے ہاسٹل بھیجنے کی ضد کی تو یوسف اسے ہاسٹل چھوڑ کر چلے گئے تھے اور پھر صبح اطلاع ملی کہ زہرش کی لاش ہاسٹل کے عقبی حصے کی گلی میں پڑی ہے۔ اس حوالے سے کالج انتظامیہ بھی تفتیش کررہی ہے۔  میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی،میرپورخاص کے علاقے ڈھولن آباد میں واقع گرلز ہاسٹل کی گلی سے پولیس نے مقامی افراد کی نشاندہی پر نوجوان لڑکی کی لاش تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…