ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وفاق نے صوبائی حکومت کو بجلی منافع بقایا جات کی مد میں مزید 10کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

پشاور(آن لائن)وفاق نے صوبائی حکومت کو بجلی منافع بقایا جات کی مد میں مزید 10کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہے جنور ی میں بھی صوبائی حکومت کو ادائیگی کی گئی تھی بجلی بقایا جات ، بقایا جات اور دیگر مد میں وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا حکومت کے کروڑوں روپے ہیں جس کی ادائیگی کے لئے صوبائی حکومت نے وفاق سے رابطہ کر چکی ہیں ۔

محکمہ خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ سے قبل صوبائی حکومت نے وفاق سے اپنے تمام بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نئے مالی سا ل کے بجٹ کے موقع پر زیادہ سے زیادہ ریلیف صوبے کے عوام اور ملازمین کو دی جا سکے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاق کی جانب سے صوبے کو مرکز سے ادائیگی جاری ہیں جس کے باعث صوبہ مالی طور پر مستحکم بھی ہو چکا ہے صوبائی حکومت کو مزید دس کرو ڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہیں ۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مالی پوزیشن پنجاب ، سندھ اور بلوچستان حکومتوں کی نسبت مالی طور پر مستحکم پوزیشن پر ہے اور صوبائی حکومت نے تاحال کسی بینک سے قرضے نہیں لئے ہیں ۔ بی آر ٹی منصوبے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی قرضے فراہم کئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…