منگل‬‮ ، 07 جولائی‬‮ 2026 

وہ قانون بتایا جائے جس سے پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکا جاسکے،سپریم کورٹ

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سپریم کورٹ نے اٹھارہویں اور اکیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست گزاروں کے وکلاءسے آئینی اور قانونی معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ قانون سازی کی آئینی حیثیت جاننے کی کوشش کررہے ہیں وہ قانون بتایا جائے کہ جس سے پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکا جاسکے ۔ بدھ کے روز چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سترہ رکنی فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو حامد خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے دلائل میںموقف اختیار کیا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی یا سیاستدانوں کا نہیں اداروں کا ہے اگر پارلیمانی کمیشن کو اختیارات دیئے گئے ہیں تو ممکنہ بائیسویں ترمیم کے ذریعے وہ اختیارات کم بھی کئے جاسکتے ہیں اس پر عدالت نے کہا کہ اگر کمیشن کو اداروں سے رپورٹ طلب کرنے کے اختیارات دے دیئے جائیں تو کیا اس سے کارکردگی بہتر ہوگی ۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کیا بہتر نہیں کہ اداروں سے رپورٹ منگوانے اختیار دے دیا جائے پارلیمانی کمیٹی کو اگر کمیشن میں شامل کیا جائے تو کیا کسی کو اس پر اعتراض ہوگا اس پر حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے اور وہ ایسی قانون سازی نہیں کرسکتی جو آزاد عدلیہ اور بنیادی آئینی ڈھانچے کے خلاف ہو ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم تو پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے اب تک عدالت نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے حامد خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں قانون سازی کو آئین کے تحت پرکھا جاسکتا ہے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ججز تقرری میں اگر پارلیمنٹ کو بھی شامل کرلیا جائے تو کیا قباحت ہے اس پر حامد خان نے کہا کہ بات کسی قباحت کی نہیں بات آئین اور قانون کی ہے پارلیمانی کمیٹی بنا کر جوڈیشل کمیشن کے اختیارات پر جو قدغن لگائی گئی ہے یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ جن ججز کی تقرری کا فیصلہ ججز کمیٹی کرے تو اس کو پارلیمان کی کمیٹی کس طرح سے مسترد کرسکتی ہے میں تو کہتا ہوںکہ پارلیمانی کمیٹی سرے سے ہونی ہی نہیں چاہیے یہ پارلیمانی کمیٹی آزاد عدلیہ اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اوراس کے علاوہ یہ بنیادی انسانی حقوق کیخلاف بھی سمجھی جاسکتی ہے اس پر عدالت نے کہا کہ قانون کالعدم قرار دینے کیلئے عدالت اسے آئین کی کسوٹی پر پرکھتی ہے ہم اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں جس کا دروازہ بند ہے وکلاءاس معاملے پر عدالت کی معاونت کریں عدالت نے بعد ازاں کیس کی مزید سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کردی اور وکلاءکو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر عدالت کی معاونت کریں کہ پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی قانون سازی کو کس طرح کالعدم قرار دیاجاسکتا ہے حامد خان آئندہ سماعت پر بھی دلائل جاری رکھیں گے ۔ در یں اثنا ءلا ہو ر ہا ئی کو رٹ با ر ایسو سی ایشن را ولپنڈی نے18ویں آ ئینی تر میم کے خلا ف در خواست واپس لے لی جو عدا لت نے نمٹا دی ۔



کالم



ووزی ناں (Vozinha)


وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…