ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی ،پولیس نے ٹیکسی سروس کریم کے ڈرائیور کے قتل کے جرم میں تین ملزمان کو گرفتار کرلیا،افسوسناک انکشافات

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

راولپنڈی  (مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی میں آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے ڈرائیور کے قتل کے جرم میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سجاول امیر نامی نوجوان کو کارچھیننے کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیا، ملزمان کی گرفتاری کریم کی جانب سے فراہم کئے جانیوالے ڈیٹا کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی کے مطابق ملزمان نے پیر 12 مارچ کو سمبڑیال روڈ کے قریب شادی ہال سے کریم کی رائیڈ بک کرائی اور جب لکھو کے علاقے میں پہنچے تو انہوں نے گاڑی چھیننے کی کوشش کی۔

ڈرائیور سجاول امیر کے مزاحمت کرنے پر ملزمان اسے پانچ گولیاں مار کر فرار ہوگئے، زخمی ڈرائیور کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے روز چل بسا۔ایس ایس پی کے مطابق ملزمان کی گرفتاری آن لائن ٹیکسی سروس کریم کی جانب سے فراہم کئے جانیوالے ڈیٹا کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔ دریں اثناء چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیکسی سروس کریم جنید اقبال نے کہا ہے کہ کریم ڈرائیورز کیساتھ پیش آنیوالے واقعات کی وجہ شہر میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے، اگر اسلام آباد میں حالات یہی رہے تو کمپنی دارالحکومت کے چند علاقوں میں اپنی سروس محدود کرنے پر غور کرے گی۔ بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیکسی سروس کریم جنید اقبال نے کہا کہ کریم ڈرائیورز کیساتھ پیش آنیوالے واقعات کی وجہ شہر میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بندوق کے آگے ایک ڈرائیور کیا کرسکتا ہے، اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں، ہم بے بس ہیں۔انہوں نے کہا کہ کریم نے اپنے کیپٹنز کی حفاظت کیلئے بہت سے اقدامات کئے ہوئے ہیں جیسا کہ کراچی کے ان علاقوں میں ابتدائی طور پر کریم سروس فراہم نہیں کی گئی تھی جنہیں نو گو ایریاز کہا جاتا ہے، بعد ازاں جب قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے ان علاقوں کو کلیئر قرار دیا تو ہی ہم نے اپنے ڈرائیورز کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت دی۔انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں بھی یہی حالات رہے تو کمپنی دارالحکومت کے چند علاقوں میں اپنی سروس محدود کرنے پر غور کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…