جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اپنی غذا کا خیال نہ رکھنا آپ کو کس حد تک بیمار کرنے کا باعث بن سکتا ہے،کینیڈا میں ہونیوالی طبی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(سی ایم لنکس)ویسے تو موت کا ایک دن معین ہے مگر اپنی غذا کا خیال نہ رکھنا آپ کو جان لیوا حد تک بیمار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میک ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ناقص غذا جسم کے اندر ورم بڑھنے کا باعث بنتی ہے جو مختلف جان لیوا امراض کا باعث بنتی ہے، جن میں فالج اور ہارٹ اٹیک قابل ذکر ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی اور چربی سے بھرپور غذائیں

معدے کے بیکٹریا کا توازن بگاڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں انتڑیوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہونے پر انتڑیوں سے ایسے بیکٹریا خارج ہوتے ہیں جو امراض کے خلاف جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرکے خلیات کی عمر تیزی سے بڑھا دیتے ہیں جبکہ موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے گئے تجربات کیے گئے جن سے معلوم ہوا کہ غذا کس حد تک جسم میں تباہی کا باعث بنتی ہے۔تحقیق کے مطابق جسم میں ورم بڑھنے سے ذیابیطس، کینسر، امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دہی، کیلے اور بلیو بیریز وغیرہ معدے کے بیکٹریا کے لیے فائدہ مند غذائیں ہیں جس کی وجہ ان میں وٹامنز، منرلز، پوٹاشیم اور میگنیشم کی مقدار کی موجودگی ہے۔ اس کے مقابلے میں چینی سے بھرپور غذا ہیضے، گیس اور کھچاؤکا باعث بنتی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ناقص غذا سے ہونے والے انفیکشن ڈیمینشیا اور خون کی شریانوں میں مسائل کا باعث بھی بنتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ناقص غذائی عادات کے نتیجے میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں فالج، دل کے امراض یا ذیابیطس کے نتیجے میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے اور ان میں بھی نوجوانوں کی اکثریت ہے جو جنک فوڈ کے شیدائی ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…