جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاک فضائیہ کے سربراہ کو امریکی لیجن آف میرٹ ایوارڈ عطا کیا گیا

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان کو ان کی پیشہ وارانہ خدمات کے اعتراف میں امریکی حکومت کی طرف سے اعلی ترین ملٹری ایوارڈ لیجن آف میرٹ جو کہ کسی بھی غیر ملکی عسکری لیڈر کو دیا جاتا ہے، سے نوازا گیا۔ اس سلسلے میں ائیر ہیڈ کواٹرز میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں امریکی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے کمانڈر یو ایس ائیر فورس سنٹرل کمانڈ، لیفٹیینٹ جنرل جیفری ایل ہیریجین نے یہ اعزاز پاک فضائیہ کے سربراہ کو عطا کیا۔

اس تقریب میں امریکی فضائیہ کے چیف آف سٹاف جنرل ڈیوڈ ایل گولڈ فین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ۔یہ اعزاز پاک فضائیہ کے سربراہ کو ان کی جرتمندانہ قیادت، دور اندیشی اور دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں غیر معمولی عزم و استقلال اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا۔ یہ ایوارڈ پاک فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین باہمی تعاون کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی اعتراف ہے۔ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہو ئے امریکی فضائیہ کے سربراہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ائیر چیف کے عزم اور پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی جو خطے میں امن و استحکام کی واپسی کو ممکن بنانے میں مدد گار ثابت ہوئے۔ امریکی فضائیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر ائیر چیف مارشل سہیل امان کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں امریکی کمانڈر لیفٹیینٹ جنرل جیفری ایل ہیریجین نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ دونوں معزز شخصیات کچھ دیر ایک ساتھ رہیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران ائیر چیف نے دونوں فضائی افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کو امریکی فوج کے اعلی ترین اعزاز سے نوازا جانا نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…