اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں ۔۔۔! وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے انتباہ کردیا

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ہم سب کا ادارہ ہے جس معاشرے میں سپریم کورٹ متنازعہ ہو جائے تو معاشرے کی بنیاد گر جاتی ہے،پاکستان میں بدقسمتی سے روایت پڑ گئی ہے کہ جمہوری قیادت کی کامیابیوں کو کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،ہمیں 70سال بعد یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقاء جمہوریت اور آئین میں ہے ،

اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں پاکستان جنت نظیر بن چکا ہوتا۔وہ اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے ، ریاستی اداروں کو ہم آہنگی سے کام کرنا ہے ، سپریم کورٹ ہم سب کا ادارہ ہے جس معاشرے میں سرپیم کورٹ متنازعہ ہو جائے تو معاشرے کی بنیاد گر جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ٹوئٹ میں معزز عدلیہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ان کا ایک بیان اخبار میں چھپا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دس سال مین پنجاب میں کوئی کام نہیں کیا ، عدلیہ کیلئے مناسب نہیں کہ جب ہم عام انتخابات میں جا رہے ہوں تو اس طرح کے بیانات دے ، ایسے بیانات سیاسی جماعتوں کی طرح سے آئیں تو کوئی مسئلہ نہیں ان کا حق بنتا ہے ، چند ماہ میں انتخاب ہوں گے تو عوام اپنا فیصلہ دے گی کہ کس نے کتنا کام کیا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے روایت پڑ گئی ہے کہ جمہوری قیادت کی کامیابیوں کو کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ہمیں 70سال بعد یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقاء4 جمہوریت اور آئین میں ہے ، اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء4 اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں پاکستان جنت نظیر بن چکا ہوتا۔احسن اقبال نے کہا کہ فوج یہی کام سب سے اچھا کرسکتی ہے جو وہ کر رہی ہے ، آج پاکستان سے دہشت گردی کا صفایا کیا جارہا ہے ، یہی ہماری فوج کی کامیابی ہے اور ان کی خاصیت بھی ہے ، مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور ہم پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…