اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں عدم برداشت اور عدم روا داری کابڑھتاہوارجحان ،صدرمملکت ممنون حسین نے اہم تجویز دیدی

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے ملک میں عدم برداشت اور عدم روا داری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رویہ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگاجس کے مضر اثرات سے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوئی بچ نہ سکے گا اور دہشت گردی کے خلاف قوم کی کامیابیاں بھی ناکامی میں بدل سکتی ہیں۔صدر مملکت نے یہ بات ملک میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’آج میں نہایت دکھے ہوئے دل کے ساتھ ا پنی قوم سے مخاطب ہوں ٗمیں محسوس کرتا ہوں کہ وطن عزیز میں عد م برداشت کا جو رجحان شدت پکڑ رہا ہے،قوم ،خاص طور پر نوجوانوں کو اس کی تباہ کاری سے خبردار نہ کیا گیا اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ معاشرے کے تمام طبقات نے مکمل یکسوئی سے تعاون نہ کیا تو اس کے نتائج نہایت خوفناک ہوں گے۔ اختلاف رائے صحت مند معاشرے کی پہلی سب سے بڑی علامت ہے لیکن جب یہ اختلاف شائستگی کی حدود پھلانگ کر گالی گلوچ کی شکل اختیار کر لے تو یہ خطرناک شکل اختیار کرجاتاہے کیونکہ اس کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے جس سے آج ہم دوچار ہو چکے ہیں۔اس کے بعد اعتدال اور ہوش و خرد کی آواز دب جاتی ہے اور معاشرہ فساد فی الارض کا شکار ہوجاتا ہے۔ آج اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو مجھے ڈر ہے کہ ہم بحیثیت قوم تباہی کے ایک ایسے راستے پر چل نکلیں گے جس سے نہ اہل سیاست محفوظ رہ سکیں گے ، نہ مسندِ دعوت و ارشادپربیٹھنے والے علمائے کرام اور نہ انفرادی حیثیت سے کوئی فرد اوراجتماعی طور پر کوئی ادارہ اس کی تباہ کاری سے بچ سکے گا۔مجھے تو یہ بھی خوف ہے کہ گزشتہ کئی برس کی محنت سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جس سلسلے کے سامنے ہم نے بند باندھا ہے، وہ بند بھی اس سیلاب کے ریلے میں بہہ جائے گا،اس لیے میں تمام سیاسی و غیر سیاسی اداروں سمیت قوم کے ہر فرد اور خاص طور پرذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس انتہا پسندانہ رجحان کے خاتمے کے لیے کمر بستہ ہوجائیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس تشویش ناک صورت حال پر قابو پانے کے لیے پوری قوم کو ایک میثاقِ اخلاق پر اکٹھا ہوجانے کے ضرورت ہے۔اس موقع پر میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت ملک کے ہر شہری کے جان و مال اور عزت و عصمت کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، اس لیے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی کوتاہی سے گریز نہ کیا جائے اور قومی رہنماؤں سمیت ملک کے ہر شہری کی حفاظت میں کوئی کمی نہ آنے دی جائے۔میں اختلاف کو نفرت اور دشمنی میں بدل دینے والوں کوبھی خبر دار کرتا ہوں کہ یہ رویہ قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ میں سیاسی، غیر سیاسی اور مذہبی طبقات سے بھی نہایت دردمندی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے اختلاف کا اظہار دین مبین کی تعلیمات اور آئین میں فراہم کی گئی حدود کے اندر رہتے ہوئے کریں۔بصورت دیگر معاشرے کو بدترین اخلاقی انحطاط سے بچانا مشکل ہو جائے گا‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…