اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر خارجہ پر سیاہی پھینکنے والے شخص کیساتھ کیا سلوک کیا گیا ، اب وہ کہاں اور کس حال میں ہے ، خواجہ آصف نے موقعے پر کیا حکم دیا تھا

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ شب خواجہ آصف کے چہرے پر ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی ۔ جس کے بعد اس شخص کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا ۔تفصلات کے مطابق خواجہ آصف سیالکوٹ میں (ن) لیگ کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک شخص نے اچانک پیچھے سے ان پر سیاہی پھینک دی۔واقعے کے فوری بعد پولیس نے وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص کو گرفتار کر لیا۔

خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ سیاہی پھینکنے والے شخص کو کسی نے بھیجا ہے اور چار پیسے دے کر مجھ پر سیاہی پھینکوائی گئی لیکن اسے چھوڑ دیں کیونکہ میری اس سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سیاسی پھینکنے سے میری سیاست کو فرق نہیں پڑتا بلکہ اب بھی ہرازوں لوگ میرے لیے دعا گو ہیں۔خواجہ آصف کی جانب سے سیاہی پھینکنے والے شخص کو چھوڑنے کا کہنے پر کارکنوں کی جانب سے نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر داخلہ احسن اقبال پر بھی ورکرز کنوینشن سے خطاب کے دوران ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھال دیا تھا۔دریں اثنا زوزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ مبینہ طور پر تحریک لبیک کا کارکن ہے جس نے ختم نبوتؐ کے معاملے پر خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی۔وزیر خارجہ پر سیاہی پھینکنے والے نوجوان کا نام فیض الرسول بتایا جاتا ہے جو کہ سیالکوٹ کے قریب سرحدی علاقے مظفر پور کا رہائشی ہے۔واضح رہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن کے دوران خواجہ آصف تقریر کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان نے ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔سیاہی خواجہ آصف کے چہرے اور بالوں پر گری جبکہ ان کے کپڑے بھی خراب ہوگئے، قریب کھڑے کئی کارکنان بھی اس سیاہی سے متاثر ہوئے۔ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص کو لیگی کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔خواجہ آصف نے مذکورہ شخص کو بعد میں معاف کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…