اسلام آ باد (نیو ز ڈیسک )بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے، ایک خاص سٹیج کے بعد یہ مرض ناقابل علاج ہو جاتا ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں علم ہونے پر بھی چھاتیوں سے محرومی ہی اس کا واحد علاج ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ موٹاپا بریسٹ کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے تاہم ماہرین نے پتہ لگایا ہے کہ کم عمری میں استعمال کی گئی چکنائی والی اور روغنی خوراک بھی بڑی میں جا کر بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سنی میں احتیاط سے بعد کی زندگی میں اس موذی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں چھاتی کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کر سکتی ہیں۔ اس بارے میں امریکا کی مشیگن یونیورسٹی کے مححقیقن نے ریسرچ کی ہے اور ا±ن کا کہنا ہے کہ کم سنی میں روغنی غذا کے استعمال سے پرہیز کرنے والی لڑکیوں میں آگے چل کر بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے خطرات کافی کم ہو سکتے ہیں۔ مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے یہ تجربہ چوہوں پر کیا۔ تین ہفتے تک ان چوہوں کو ہائی فَیٹ ڈائیٹ یا چربی سے بھرپور غذا دی گئی، جس کے بعد سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ان چوہوں کی چھاتیوں کی ساخت میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔ نیز ان کے امیون سیلز یا مدافعتی خلیوں کی نشو و نما میں اضافہ اور تبدیلی ظاہر ہونے لگی۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ خلیوں کی یہ تبدیلیاں دائمی ہوتی ہیں اور یہ بظاہر بے ضرر ماہیت پر مبنی یہ تبدیلیاں کچھ عرصے بعد چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتی ہیں۔
سیچوریٹڈ فَیٹ یا ایسی چربی یا روغن جو ٹرائی گلیسرائیڈ پر مشتمل ہو، چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتا ہے۔ ٹرائی گلیسرائیڈ دراصل گلیسرول اور تین تیزابی اصلیوں سے تیار شدہ چربی ہوتی ہے، جو تیل اور گھی وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ جانوروں سے حاصل کردہ سیچوریٹیڈ فَیٹ مکھن، گھی، پنیر، چربی کے حامل گوشت، ناریل کے تیل اور روغن تاڑ میں پایا جاتا ہے۔ محققین نے ایک مزید تشویشناک انکشاف یہ کیا ہے کہ سیچوریٹیڈ فَیٹ سے بھرپور غذا سرطان زا رسولیوں یا ٹیومرز میں ایک مخصوص قسم کے جین کی موجودگی کا سبب بنتی ہے۔ یہ ٹیومرز سرطان کی مختلف اقسام پر مشتمل ایک چھوٹے اور خاص قسم کے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، جنہیں ’بیسل ٹائپ‘ یا ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ اس تحقیقی عمل میں شامل محققہ سوزن جی کومن کے مطابق امریکا میں چھاتی کے کینسر کی اقسام میں 15 سے 20 فیصد ’بیسل ٹائپ‘ کینسر ہے، جو زیادہ تر کم عمر خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اس سے بچاﺅ کے لئے سب سے اہم تدبیر یہی قرار دی گئی ہے کہ بہت چھوٹی عمر سے صحت مند طرز زندگی اور صحت مند خوراک کا استعمال کیا جائے۔ ماہرین اس سلسلے میں آرگینک فوڈ پر تجربات کر رہے ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ اس قسم کی خوراک کے مسلسل استعمال سے بریسٹ کینسر سے بچنا کس حد تک ممکن ہے۔
کم سنی میں روغنی غذا کا استعمال بریسٹ کے کینسر کا باعث
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیراعظم اپنا گھر اسکیم، قرضہ لینے والوں کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آگئی
-
بھارت میں ایک خاندان میں 200 سال بعد بیٹی کی پیدائش، ننھی بچی کا شاندار استقبال اور بھرپور جشن منایا...
-
ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا
-
گمنامی کی زندگی گزارنے والی ماضی کی ہیروئن کی اپنی ویڈیو وائرل ہونے پر مداحوں سے اپیل
-
15 دن کے ویزے پر 33 سال تک جاپان میں رہنے والا شخص گرفتار؛ پولیس کو کیسے چکمہ دیا؟
-
پنجاب حکومت کی گریجویٹس کے لیے بڑی خوشخبری، 60 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کا اعلان
-
روزے کب شروع ہوں گے؟ رمضان المبارک 2027 کے آغاز کی متوقع تاریخ سامنے آگئی
-
یو اے ای جانے والوں کیلئے بڑا الرٹ، کن کاموں پر پابندی ہے؟ اہم فہرست سامنے آگئی
-
40 اور 25 ہزار روپے کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر بڑا اضافہ
-
حکومت نے ڈیزل مہنگا، پیٹرول سستا کرنے کا اعلان کردیا
-
اس سال سب سے سستے نئے آئی فون کی قیمت آپ کو دنگ کر دے گی
-
پی آئی اے نے جدہ اور مدینہ کیلیے کرایوں میں فوری کمی کا اعلان کر دیا
-
ویرات کوہلی کی پہلی محبت کون تھی؟ نام جان کر حیران رہ جائیں گے



















































