ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی دھمکی کا توڑ، پاکستان نے ایسا کام کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے متبادل کون سا منصوبہ تشکیل دیدیا، پاک بحریہ کو بڑا ٹاسک سونپ دیا گیا

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے نیا گیس لائن منصوبہ تشکیل دے دیا ہے، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالرز کے جرمانے سے بچنے کے لیے نیا گیس لائن منصوبہ تشکیل دے دیا ہے۔ پاکستان نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے متبادل منصوبہ تشکیل دے دیا ہے، اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں سومیانی (بلوچستان) سے نواب شاہ تک گیس پائپ لائن بچھانے کے حوالے سے ایک متبادل منصوبہ تشکیل دے دیا ہے۔

اس کا مقصد ایران کے دباؤ کو کم کرنا ہے، جس نے پہلے ہی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد میں ناکامی کے باعث پاکستان پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالرز کا جرمانہ عائد کرانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی گوادر، نواب شاہ ایل این جی پائپ لائن (جی این جی پی) منصوبے کو ملتوی کر چکی ہے، جس کا آغاز نواز حکومت نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے متبادل کے طور پر کیا تھا، ایران اس سے قبل کہتا رہا ہے کہ جی این جی پی منصوبہ امریکہ کی ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں کے باعث تیار کیا گیا تھا اور اسے حتمی شکل دیئے جانے کے بعد پائپ لائن کو ایرانی سرحد تک توسیع دی جانی تھی اور اس کا نیا نام پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ رکھا گیا تھا لیکن پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے ایک ملک کے دباؤ کی بدولت یہ گیس پائپ لائن منصوبہ ملتوی کر دیا، اب پاکستان کو ایران نے کہا ہے کہ وہ عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر رہا ہے تاکہ پاکستان پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا جاسکے، جو کہ گیس کی خرید وفروخت کے عالمی معاہدے (جی ایس پی اے)جس پر 2009 میں دستخط کیے گئے تھے کے مطابق ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اسی وجہ سے یہ نیا منصوبہ سومیانی نواب شاہ گیس پائپ لائن کے نام پر بنایا گیا ہے

تاکہ ایران کو مطمئن کیا جا سکے۔ اس عہدیدار نے بتایا کہ پاک بحریہ سومیانی کے مقام پر آر ایل این جی ٹرمینل تعمیر کرے گی جو کہ 500 سے 600 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ اس سے قبل پاک بحریہ اس متعلق غیر یقینی کا شکار تھی کہ اگر ٹرمینل تعمیر ہوتا ہے تو سومیانی سے کس طرح ایل این جی نکالی جائے گی۔تاہم اب حکومت نے پاک بحریہ سے درخواست کی ہے کہ وہ منصوبے پر کام کرے اور ایل این جی کو پائپ لائن کے ذریعے منتقل کیا جائے گا

اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم (آئی ایس جی ایس)بچھائی جائے گی۔منصوبے کے تحت پائپ لائن کی لمبائی300سے350کلومیٹر طویل ہوگی جو کہ سومیانی سے نواب شاہ تک ہوگی، جب کہ سومیانی کے مقام پر ایل این جی ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ جی این جی پی منصوبے کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہے اور متعلقہ حکام ایران کو بھی یہ بتائیں گے کہ ایک مرتبہ نیا منصوبہ منظر عام پر آ جائے اور اس وقت تک ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں تو چار سو کلومیٹر کی پائپ لائن سومیانی سے ایران کی سرحد تک بھی بچھائی جائے گی اور اس منصوبے کو پاک ایران گیس پائپ لائن ہی سمجھاجائے گا۔اگر اس منصوبے کی منظوری ہو جاتی ہے تو یہ منصوبہ اگلے دو تین سال تک مکمل ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…