بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بدعنوانی کیخلاف ’’شاک تھراپی‘‘ کی ضرورت تھی ،کتنے افراد تاحال زیر حراست ہیں ،سعودی ولی عہد نے سب کچھ بتا دیا

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

جدہ(آن لائن)سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت میں اصلاحات کی نئی لہر اور بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کو شاک تھراپی کا ایک حصّہ قرار دیا ہے۔ امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کے لیے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ مملکت میں ثقافتی اور سیاسی زندگی کے ارتقاء اور شدت پسندی کا سر کچلنے کے لیے یہ اقدامات نا گزیر تھے۔بن سلمان کے مطابق بدعنوانی کی مثال سرطان کے مرض جیسی ہے، جب یہ پھیلنے لگے

تو پھر کیمو تھراپی لازم ہو جاتی ہے نہیں تو وہ پورے جسم یعنی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔انہوں نے باور کرایا کہ اس لوٹ مار پر روک لگائے بغیر مملکت کے بجٹ اہداف کو کسی طور پورا نہیں کیا جا سکے گا۔سعودی ولی عہد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ بدعنوان شہزادوں کی تعداد کم رہی ہے تاہم ان کے اطراف سرگرم شخصیات نے اس برائی پر زیادہ توجہ دی۔ اس امر نے شاہی خاندان کی صلاحیت اور قدرت کو نقصان پہنچایا۔محمد بن سلمان نے بتایا کہ بدعنوانی کے خلاف ان کی مہم کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں سے 56 کے سوا باقی تمام کو ہرجانوں کی ادائیگی کے بعد رہا کیا جا چکا ہے۔بن سلمان کا کہنا ہے کہ ان کو عوام کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، نہ صرف سعودی نوجوانوں کی بلکہ وہ شاہی خاندان کے افراد کی بھی حمایت رکھتے ہیں۔ اپنی مقامی اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے بن سلمان نے کہا کہ یہ تبدیلیاں مملکت کی ترقی کے لیے فنڈنگ اور مملکت کے ایران جیسے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے واسطے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔بن سلمان کا کہنا تھا کہ پیر کی شام شاہ سلمان کی جانب سے اعلان کردہ تبدیلیوں کا مقصد “بھرپور توانائی” کے حامل افراد کا تقرر ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مقاصد کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔شہزادہ محمد بن

سلمان نے وزارت دفاع میں چیف آف اسٹاف کی خدمات کو اختتام پر پہنچاتے ہوئے نئی عسکری قیادت کا تقرر کیا ہے۔ سعودی ولی عہد کے مطابق اس کی منصوبہ بندی کئی برس پہلے کر لی گئی تھی تا کہ مملکت کی وزارت دفاع پر ہونے والے اخراجات کے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔بن سلمان نے بتایا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں چوتھا بڑا دفاعی بجٹ رکھتا ہے تاہم اس کی فوج دنیا کی بہترین افواج کی درجہ بندی میں 20 ویں سے 30 ویں پوزیشن کے درمیان ہے۔سعودی ولی عہد نے یمنی قبائل کو حوثیوں اور ان کے ایرانی حامیوں کے خلاف اکٹھا کرنے کے لیے مجوزہ منصوبہ بندی پر بھی روشنی ڈالی۔بن سلمان نے اْن مغربی رپورٹوں کی تردید کی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد نے چار نومبر کو مستعفی ہونے والے لبنانی وزیر اعطم سعد حریری پر اس اقدام کے لیے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعد حریری اس وقت لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے مقابلے میں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…