ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں خطرناک ترین حملے کاخدشہ ،نقصانات کا تخمینہ دو ٹریلین ڈالر تک ہو سکتا ہے ، یہ کوئی ایٹمی حملہ نہیں بلکہ ۔۔۔! ماہرین کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پھیلتی ہوئی سائبر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات میں شامل سائبر اٹیک پاکستان کی معیشت اور سلامتی کے لئے شدید خطرہ ہے۔ گزشتہ سال بہتر اور بروقت سائبر سیکورٹی کے اقدامات اٹھانے کے باعث عالمی معیشت میں سائبر کے ذریعے نقصان تقریباً 450بلین ڈالر رہا جو کہ 2019تک 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔ انہتائی سنجیدہ حفاظتی انتظامات و اقدامات نہ اٹھانے والے ممالک اور اداروں کو ایسے نام نہاد حملہ آوروں کی زد میں آسکتے ہیں جس سے تحفظ کیلئے مل کر کوشش کرنا ناگزیر ہے ۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام’’ سائبر خطرات اور ہماری پیش بندی ‘‘کے موضوع پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سٹڈی گروپ کا 61واں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ممبر عبدالصمد ، ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری ، بریگیڈئیر محمد یاسین، سیکورٹی ایکسپرٹ عمار جعفری اور پی ٹی اے ، پی ٹی سی ایل اور پیمرا کے سابق چیئرمین کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سے وابستہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ سائبر سیکورٹی خطرات سے تحفظات کے لئے غیر روائتی خطرات ہیں اور ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے وورمیں ہیں جہاں بڑھتی ہوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں محنت کش انسانوں کی جگہ ربوٹ لے رہے ہیں وہاں سائبر کے شدید خطرات موجود ہیں۔ خطرات کی شدت سویلین اور عسکری اداروں کو بھی ہے اور اس سے نبردآزما ہونے کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے انتہائی حفاظتی انتظامات ، رازداری کے ساتھ سویلین اور عسکری اداروں کے پاس کنٹرول ہونا چاہئے تاکہ ہم انفرادی اور مجموعی طور پر سائبر حملہ آوروں سے محفوظ رہ سکیں ، اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے سینئر ایڈوائزر بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے کہا کہ دنیا بھر میں سائبر حملوں اور ہائکرنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حریفوں کے مابین آئندہ جنگ سائبر کے ذریعے یعنی سائبر وار ہوگی

جس میں اس پر انتہائی مہارت رکھنے والا حریف اپنے ٹارگٹ کامیابی سے ٹارگٹ کر سکے گا۔ جس کے ذریعے کسی بھی ملک یا ادارے کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے عمل کو تباہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر سطح کے تعلیمی اداروں ، تمام شعبہ جات بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اور عسکری اداروں کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی معاہدہ جات کی اشد ضرورت ہے تاکہ سائبر کی دنیا کو محفوظ تر بنایا جا سکے ۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ممبر عبدالصمد نے کہا کہ سائبر سپیس کے حوالے سے پاکستان کے پاس قومی سطح پر جامع حکمت عملی موجود ہے۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے ہم اس کے مضرخطرات سے اپنا تحفظ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا اس کے باوجود آئے دن نئے سے نئے خطرات درپیش رہتے ہیں جس پر مسلسل کام جاری رہتا ہے۔ اس میں مزید بہتر مشاورت کے لئے ہم تمام قومی اداروں سے تیکنیکی مشاورت کا عمل جاری رکھتے ہیں ۔

اس موقع پر سابق چیئرمین پیمرا ، پی ٹی سی ایل اور پی ٹی اے میاں محمد جاوید نے کہا کہ سائبر خطرات سے تحفظ کے لئے جامع حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے جو کہ تمام اداروں کے اتفاقِ رائے سے مرتب کی جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھے نتائج کے لئے تمام اداروں کے متعلقہ شعبہ جات میں مضبوط رابطہ انتہائی ضروری ہے ۔ بعد ازاں پاکستان انفارمیشن سیکورٹی ایسو سی ایشن کے صدر عمار جعفری نے کہا کہ سائبر سیکورٹی کا حصہ نیشنل سیکورٹی میں بھی انتہائی حساس اہمیت کا حامل ہے اس لئے اس کے لئے حساس اور خصوصی نوعیت کی ترجیحات مرتب کرنا اشد ضروری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…