بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف ن لیگ کے تاحیات قائد، شہباز شریف صدر مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس، شہباز شریف قائم مقام صدر بنا دئیے گئے، منظوری دیدی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آج لاہور میں ہوا جس میں سابق وزیراعظم و ن لیگ کے سابق صدر نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب و ن لیگ کے صوبائی صدر شہبازشریف کے علاوہ مریم نواز نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ن لیگ کی مرکزی قیادت بھی موجود تھی ۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں نواز شریف نے شہباز شریف کا نام قائم مقام صدر کے طور پر پیش کیا جس پر مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو قائم مقام صدر بنانے کی منظوری دیدی ہے۔منظوری ملنے کے بعد شہباز شریف نے باقاعدہ طور پر ن لیگ کے بطور قائم مقام صدر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ دوسری جانب ن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم و ن لیگ کے سابق صدر نواز شریف کو تاحیات پارٹی کا قائد منتخب کر لیا گیا ہے۔ نواز شریف بطور قائد مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ واضح رہے کہ شہباز شریف کو مرکزی مجلس عاملہ کی منظوری اور فیصلے کے بعد 6مارچ کو پارٹی کا مستقل صدر بنایا جائے گا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 62,63 پر پورا نہ اترنے والا شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، اس کے ساتھ ہی نوازشریف کی جانب سے بطور پارٹی صدر کی جانے والی سینٹ کے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کالعدم قرار دے دی گئی ہیں جس کے ساتھ ہی نوازشریف کے بطور پارٹی صدر کیے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے دیاگیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے بھی نا اہل ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا

کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہےجس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔ واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی،

اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کسی پارلیمینٹرین کو چور اچکا نہیں کہا، الحمد اللہ ہمارے لیڈر اچھے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پارٹی سربراہ کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہے۔اس فیصلے کے بعد سینٹ کے انتخابات معطل کر دیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…