ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی آرمی چیف مسلمانوں سے متعلق اپنے سیاسی بیان کی وجہ سے تنازعات میں گھرگئے،مسلم رہنماؤں کی شدید نکتہ چینی

datetime 23  فروری‬‮  2018 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنے ایک سیاسی بیان کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے ، انہوں نے کہا ہے کہ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی زیر قیادت آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ جو کہ آسام میں مسلمانوں کے مفادات کا چیمپئن ہونے کا دعوی کرتا ہے، آسام میں جتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اتنی تیزی سے 1980 میں بی جے پی بھی نہیں بڑھی تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بھارتی آرمی چیف کے اس بیان پر بدرالدین اجمل اور رکن پارلیمنٹ و مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کی جانب سے شدید نکتہ چینی کے بعد فوج کو وضاحتی بیان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اس بیان میں کچھ بھی سیاسی یا مذہبی نہیں ہے۔ آرمی چیف 21 فروری کو منعقدہ ایک سیمینار میں صرف شمال مشرق میں انضمام اور ترقی کا ذکر کر رہے تھے۔جنرل راوت نے آسام میں بنگلہ دیشیوں کی مبینہ دراندازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں لوگوں کی جو منصوبہ بند آمد ہے وہ ہمارے مغربی ہمسائے کی وجہ سے ہے۔ ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا۔ ان کا الزام ہے کہ وہ درپردہ دراندازی کروا کر اس علاقے کو ہتھیانا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبہ بند کوشش کو شمالی سرحد یعنی چین کی حمایت حاصل ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسئلے کی شناخت کی جائے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔پاکستان ایسے کسی بھی الزام کی سختی سے تردید کرتا اور دراندازی میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کرتا ہے۔بدرالدین اجمل نے کہا کہ ان کی پارٹی اگر ریاست میں بی جے پی سے آگے نکل رہی ہے تو اس پر فوجی سربراہ کیوں فکرمند ہیں۔ جبکہ اسد الدین اویسی نے ان کے بیان کو نامناسب قرار دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ادھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے جنرل راوت کے بیان پر کچھ بولنے سے انکار کر دیا۔ بقول ان کے کسی شخص نے کوئی بیان دیا اس پر کسی اور نے رد عمل ظاہر کیا تو اس پر میں کوئی تبصرہ کیوں کروں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…