منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آرٹیکل 62,63 کی ڈرافٹنگ کرنیوالا کوئی بہت ہی نالا ئق اور پاگل شخص تھا ،نوازشریف کے ساتھ اب کیا ہوگا؟سابق وفاقی وزیر قا نون خالد انور نے پیش گوئی کردی

datetime 23  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر قا نون خالد انور نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62,63 کی ڈرافٹنگ کرنیوالا کوئی بہت ہی نالا ئق اور پاگل شخص تھا ،ایسا لگتا ہے کہ اس قانون کی ڈرافٹنگ کسی طالبعلم نے کی ہو اصل قانون کی تیاری کرنیوالے کو نالائقی میں گولڈ میڈل ملنا چاہئیے ۔گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62,63 پارلیمنٹ نے بنایا ا ور میاں نواز شریف نے اپنی مرضی سے اس کو برقرار رکھا اس کے ذمہ دار بھی وہی ہیں

کیونکہ پیپلزپارٹی نے اس کو ختم کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن یہاں نوازشریف نہیں مانے۔خالد انور نے کہا کہ میاں نوازشریف کے پارٹی فیصلے انکے ذاتی فیصلے تھے اس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔وہ اپنی مرضی اور پسند ناپسند کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے تھے ۔پانامہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت سوچا سمجھا تھا اقامے کی اہمیت اس لئے زیادہ جانی گئی کہ اسکو چھپانا بھی جرم ہے لیکن عوام میں اقامے کے فیصلے کو پذیرائی نہیں ملی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62,63 کی تشریح کا پورا حق اب سپریم کورٹ کے پاس ہے سپریم کورٹ نااہلی کو تاحیات بھی کرسکتی ہے اور ایک مخصوص مدت کیلئے بھی کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن 10ہزار کی بھی ہو سکتی ہے اور 10ارب روپے کی بھی ہو سکتی ہے لیکن جرم ایک جیسا ہی ہے ،اثاثے زیا دہ ہوں الور انہیں ڈکلئیر نہ کیا جائے تو نااہلی ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کے طور پر عمران خان نے جو فیصلے کیئے ان سے عوام کا کوئی تعلق نہیں تھا رشوت لینا یا ٹیکس نہ دینا کرپشن کے ضمرے میں ہی آتاہے اقامے پر فارغ کردینا ایک قانونی منطق ہے ۔ خالد انور نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62,63 کی ڈرافٹنگ کرنیوالا کوئی بہت ہی نالا ئق اور پاگل شخص تھا ،ایسا لگتا ہے کہ اس قانون کی ڈرافٹنگ کسی طالبعلم نے کی ہو اصل قانون کی تیاری کرنیوالے کو نالائقی میں گولڈ میڈل ملنا چاہئیے ۔گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62,63 پارلیمنٹ نے بنایا ا ور میاں نواز شریف نے اپنی مرضی سے اس کو برقرار رکھا



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…