اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

امریکی پروفیسر نے 10سال بوتلوں کے اندر سربند پیغامات کی تلاش میں صرف کر دئیے

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن  (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی پروفیسر نے ا پنی نرالی حرکت سے سب کو حیران کردیا ، کہا جاتا ہے کہ اچھا خاصا پروفیسر کسی دن ساحل کی سیر کو نکلا تو اسے بہت ساری سربند بوتلیں نظر آئیں۔ کچھ کو اٹھا کر دیکھا تو اس میں کچھ پیغامات نظر آئے۔ جو پرزے کی شکل میں تھے۔ اس نے اسے نکال کر پڑھا تو پتہ چلا کہ کسی نے بہت ہی اہم پیغام اپنے جاننے والے کو بھیجا تھا مگر وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ پایا۔

کہا جاتا ہے کہ کلینٹ بفنگٹن نے اپنی زندگی کے 10قیمتی سال ایسی بوتلوں کے اندر موجود سربند پیغامات کی تلاش میں اور انہیں اصل مخاطبین تک پہنچانے میں صرف کردیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عجیب و غریب کام میں انکی اہلیہ کیٹ بھی انکی مدد کرتی ہیں اور ہر طرح سے انکا ساتھ دیتی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق 33سالہ کلین نے اب تک ایسی 83بوتلوں میں سے پیغامات نکالے اور ان میں سے 25 ایسے افراد کی نشاندہی کی۔ حد یہ کہ پیغام رسانی کیلئے انہیں نامہ نویسوں تک سفر بھی کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ 2006 میں کلینٹ کے والد کو ساحل پر تعطیلات گزارنے کے دوران ایسی ہی بوتل ملی تھی جس میں کوئی خاص پیغام تھا ۔ اس وقت کلینٹ کی اپنی عمر 23سال تھی۔انہوں نے بوتل کا پیغام پڑھا جو ایڈ اور کیرل مائرز نے لکھے تھے۔ اس بوتل سے ان دونوں کی شادی کے کیک کا وہ ٹکڑا بھی موجود تھا جو شادی کے دن تقسیم کیا گیاتھا۔کلینٹ مکتوب الیہ کی تلاش میں لگ گیا اور آخر کار انہیں واشنگٹن میں ڈھونڈ نکالا۔ڈیلی میل کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میرا شوق دوسروں کی نظرمیں جو بھی حیثیت رکھتا ہو مگر میرے لئے طمانیت کا باعث ہے۔ وہ ایک عرصے تک انگریزی کے پروفیسر تھے مگر اب انہوں نے محض پیغامات پڑھنے کیلئے کچھ دوسری زبانیں بھی سیکھ لی ہیں اور بیحد خوش ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…