پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یہ کام ہونا چاہیے ٗ کسی کو رد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا،پیپلزپارٹی نے ’’نوازشریف کو بچانے‘‘ کیلئے حکمران جماعت کو بڑی پیشکش کردی

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاناما انکشافات پراپوزیشن نے کہا تھا مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہونا ضروری ہے ٗ وزیر اعظم صاحب ہم نے خود پارلیمان کو کمزور کیا ہے ٗ پاکستانی عوام کی بہتری کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے ٗ کسی کو رد کر نے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ٗ پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر عمل ہونا چاہیے ۔ پیر کو قومی اسمبلی سے خطاب کے

دور ان انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی اور نے نہیں ٗ مسٹروزیراعظم! ہم نے خود پارلیمان کوکمزورکیا ہے ٗہمیں ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اقرار کرنا چاہیے کہ جب ہم عدلیہ کو ڈیکٹیشن دیتے ہیں تواس وقت ٹھیک ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام کی بہتری کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے ٗ کسی کو رد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ پارلیمنٹ جو قانون سازی کرے اس پر عمل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہر ادارہ اپنی جگہ اپنا کام کرے کسی کا کوئی حق نہیں وہ کسی اور کا کام کرے ٗ یہ پاکستان کی عوام اور آنے والی نسلوں کیلئے بہتر ہوگا ٗدیر آید درست آید ٗپارلیمنٹ قانون سازی کرے، اچھی بات ہے۔ قانون سازی ذاتی نہیں ملک کیلئے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے مفاد کیلئے قانون سازی تباہ کن ہوتی ہے ٗ پارلیمنٹ کے تقدس کے لیے ہم سب ایک ہیں، ملک کی بہتری کے لیے قانون سازی ہوگی تو ہم حاضر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ادارے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کریں گے تو ملک کمزور ہوگا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ اگر قانون سازی ایک فرد اور مفادات کے لیے ہو تو تباہ کن ہوتی ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ قانون سازی حکومت یا اپوزیشن کی نہیں ہوتی بلکہ ملک کیلئے ہوتی ہے ٗجب تک یہ جذبہ نہیں ہوگا نتائج مثبت نہیں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…