ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو دہشتگردوں سے تعاون کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز مسترد

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکا کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردوں سے تعاون کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز کو امریکی تھنک ٹینک ووڈ روولسن نے یکسر مسترد کردیا۔تھنک ٹینک میں شامل تین ماہرین نے واضح کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد وں کی فہرست میں شامل کرنے سے امریکا کی پریشانیوں میں تنزلی نہیں آئے گی، ایسا کرنے سے امریکا اسلام آباد کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کے لیے مجبور نہیں کر سکتا اور نا ہی امریکا افغانستان میں اپنے ممکنہ مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو سکے گا۔

واشنگٹن میں اسکول آف پبلک افئیر کے اسسٹنٹ پروفیسر اسٹیفن ٹینکل نے تجزیہ پیش کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا انتہائی خطرناک ہے اور اس طرز عمل سے خطے میں پیدا کردہ امریکی صورتحال کے خاتمے کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جرمنی کے شہر میونخ میں سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں دہشت گردی اور جہاد کے حوالے سے مغرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان 40 برس قبل جو بویا گیا تھا اس کو کاٹ رہا ہے اور سرحد کے ساتھ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔واشنگٹن میں ‘بروکنگز انسٹی ٹیوشن’ سے منسلک ڈاکٹر مدیحہ افضال نے بھی امریکی تجویز مسترد کی اور کہا کہ امریکا کو اپنا طرز رویہ بدلنا ہوگا اور پاکستان کو دبا میں لانے کے لیے چین کے ساتھ بات چیت کرنی پڑے گی تاکہ پاکستان افغانستان کے معاملے پر امریکا کی سنے اور یقیناًوہ توجہ دے گا۔اسٹیفن ٹینکل نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روکنے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ امداد روکنے سے امریکا انتہائی مخالف سمت کھڑا ہو جائے گا اور پھر جب امریکا کو دوبارہ پاکستان سے رابطہ کرنے کی ضرورت پڑے گی تب اس کے لیے پریشانی دگنی ہوں گی۔اسٹیفن ٹینکل نے ساتھ ہی واضح کیا کہ امریکا کو ہر صورت میں پاکستان کی مدد درکار ہو گی۔اسسٹنٹ پروفیسر اسٹیفن ٹینکل نے تجویز دی کہ نئی پابندی ضرور عائد کی جائیں لیکن ان کا تعلق حقائق پر مبنی ہوں اور ان پر عملدرآمد بھی کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…