پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جہاں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں،’’جہاد‘‘کا اصل مطلب کیا ہے؟آرمی چیف قمر باجوہ کا جرمنی میں خطاب،دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

میونخ (آن لائن ) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے کالعدم القاعدہ، تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کو شکست دے دی، آج فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں۔جرمنی کے شہر میونخ میں سیکورٹی کانفرنس سے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں۔اپنے خطاب میں آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین

ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر پاکستان کو تشویش ہے۔آرمی چیف نے “خلافت کے بعد جہاد ازم” کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خود پرقابورکھنا بہترین جہاد ہے، تمام مکاتب کے علماء4 نے مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کیخلاف فتویٰ دیا ہے،جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے2017 میں آپریشن ردالفساد شروع کیا، پاکستان ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں، ایک وقت تھا جب پاکستان سیاحوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ انتہا پسندی کو جہاد نہیں کہنا چاہیے ، افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں، ہم نے2017 میں آپریشن ردالفساد شروع کیا، ہم نے القاعدہ، جماعت الاحرار اور طالبان کو شکست دی۔آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی ایکشن پلان پر علم درآمد کررہے ہیں ۔جنرل باجوہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں صرف فوجی آپریشن نہیں کررہا بلکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنیوالوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کاخاتمہ کیاگیا۔افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر بائیو میٹرک نظام نصب کیا گیا، افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…