منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کوئی بھی ان دہشت گردوں کی مدد نہیں کرے گا جنہوں نے ا ن کے بچوں کو قتل کیا، افغانستان میں ناکام ہونے پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، اعزاز چوہدری کے انٹرویو میں خدشات

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے مل کر کام کر نا چاہیے ٗ افغانستان میں ناکام ہونے پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں میں پاکستانی سفیر نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ پاک امریکا تعلقات ناقابل تلافی حد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے 70 سال تک ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام کیا ہے اور مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے

مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔سفیر نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت اہم تعلق ہے ۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ 70 سال تک، پاکستان اور امریکا نے ایک ساتھ کام کیا ہے. ہمارے خیال میں ہم نے جب بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا تو ہم نے نتائج حاصل کیے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت متحد کرنے والے امور کی بجائے تقسیم کرنے والے امور پر توجہ مرکوز کر دی گئی ہے۔ تاہم ہمیں پوری امید ہے کہ یہ صورتحال جلد تبدیل ہوجائے گی ۔صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، سفیر نے کہا کہ دو ملکوں کے باہمی تعلقات کی درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں پاکستان اور امریکاکی طرف سے خاص طور پر افغانستان کو مستحکم کرنے کے لئے ا بھی کافی کام باقی ہے اور ہم نے اپنے علاقے سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ایک ساتھ شروع کیا ہے۔ایک سوال پر، سفیر اعزازچوہدری نے کہا یہ ایک حقیقت ہیکہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے پاکستان نے طویل عرصے تک کام کیا،ا ب دہشت گرد دوڑ رہے ہیں اور ہم ان کے تعاقب میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں امن وامن کی بہتر صورتحال کا افغانستان سے موازنہ کیا جہاں پر یہ صورتحال بگڑ رہی ہے پاکستان کے لئے

یہ ایک بڑی تشویش ناک بات ہے جس نے افغانستان میں عدم استحکام کی بڑی بھاری قیمت اداکی۔ افغانستان کو مستحکم نہ کئے جانے کی صورت میں ہمیں دہشت گردی کے خطرات لاحق رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ افغانستان میں ناکام ہونے پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی ان دہشت گردوں کی مدد نہیں کرے گا جنہوں نے ا ن کے بچوں کو قتل کیا ۔ یہ ہم میں سے کسی کو قابل قبول نہیں ہے۔ ہم طالبان اور حقانی گروپ کو پسند نہیں کرتے اور ہم انہیں اپنی سر زمین پر بھی نہیں دیکھناچاہتے ۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں رہنے کے امریکی وعدے سے خوش ہے، تاہم امریکا کو مزید جامع پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…