منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

’’مجھے کسی مولوی یا ملا سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، میں نے خود خواتین کو عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے، میں دوبارہ ایسا کروں گا‘‘، مولانا مودودی کے صاحبزادے حافظ ابتسام سے لڑ پڑے اور بار بار ایسی نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان کر دیا

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ یہ دوسرا یا تیسرا جنازہ ہے جس میں عورتیں پیچھے کھڑی ہوئی ہیں، میں نے خود اجازت دی ہے، انہوں نے کہا کہ خواتین نے مجھ سے کہاکہ ہم بھی کھڑی ہونا چاہتی ہیں تو میں نے کہا کہ تم بھی کھڑی ہو جاؤ اور پیچھے نماز جنازہ پڑھو اور اس کے لیے

مجھے کسی بھی ملا کی رائے کی ضرورت نہیں ہے، اس موقع پر پروگرام کے میزبان نے ابتسام الہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کو خود نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت دی اور انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، جس کے جواب میں ابتسام الہی نے کہا کہ جنازے میں خواتین مردوں سے کندھا سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں، ان کے درمیان نہ کوئی دیوار تھی نہ کوئی پردہ تھا، عورتیں مردوں میں شانے کے ساتھ شانہ ملا کر کھڑی تھیں، ابتسام الہی نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے یہ درست کیا ہے تو پھر آپ نے تو میراتھن ریس کو بھی درست قرار دیا ہے، نہ یہ قرآن و سنت کی تعبیر ہے، آپ اپنی مرضی کر رہے ہیں لیکن آپ حقائق کا تو اعتراف کریں اس سے آپ منہ نہ موڑیں، جو بات غلط ہوئی ہے اسے آپ کہیں کہ وہ غلط ہے، جس پر حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ آپ نے بالکل ٹھیک کہا لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور آئندہ بھی ایسا کروں گا۔ اس موقع پر ابتسام الہی نے کہا کہ آپ نے تو اپنی مرضی ہی کرنا ہے، جس پر حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ جتنا میں عاصمہ جہانگیر کو جانتا تھا اتنا آپ نہیں جانتے، میں نے جو بھی کیا وہ ٹھیک کیا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…