منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

لودھراں میں تحریک انصاف کی شکست پر عبدالعلیم خان کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا،الیکشن میں ہار جیت جزوی نتیجہ ہوتا ہے حتمی نہیں ، اب کیا کرینگے؟بڑا دعویٰ کردیا

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ الیکشن اور سیاست میں ہار اور جیت جزوی نتیجہ ہوتا ہے حتمی نہیں ،ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ لودھراں کے نتائج کا تجزیہ کریں گے اور انشاء اللہ نئے عزم و حوصلے اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ میدان میں اتریں گے ،پی ٹی آئی نے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی پارٹی کارکن حوصلہ رکھیں انتخابی ہار پسپائی ہوتی ہے شکست نہیں ،ہم اُس کپتان کے سیاسی پیروکار ہیں جو کسی بھی قیمت پر

شکست نہ تسلیم کرنے کا قائل ہے اور جنہوں نے اپنی عملی جدوجہد سے ثابت کیا ہے کہ ہمت اور حوصلہ جوان ہو تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں ۔عبدالعلیم خان نے اپنے تبصرے میں کہا کہ بڑے بڑے سیاسی پنڈت نواز شریف کی رخصتی نہ ممکن قرار دیتے تھے لیکن عمران خان کے سیاسی ویژن اور درست سمت میں جدوجہد نے اسے ممکن کر دکھایا ۔انہوں نے کہا کہ این اے154کے نتائج بتاتے ہیں کہ ن لیگ کی جیت سے زیادہ ہماری ہار ہوئی ہے اور ہم اس کا بار بار جائزہ لیں گے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کسی امیدوار کے خلاف نہیں بلکہ پنجاب حکومت اور ریاستی مشینری کے خلاف الیکشن لڑا ہے پھر بھی پی ٹی آئی کے ہر کارکن نے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے البتہ ہم اپنی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر امید تھے ۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر خان ترین بہترین ایڈ منسٹریٹر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ انسان بھی ہیں اور عوام ان سے دل و جان سے پیار کرتے ہیں ۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ نواز لیگ خاطر جمع رکھے چند ماہ کے بعد دوبارہ میدان لگے گا اور ہم پلٹ کا جھپٹنے کے اقبال کے فرمودات پر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ نواز لیگ لودھراں کی سیٹ جیت کر نواز شریف کی کرپشن کا جواز پیش کر رہی ہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ عدالتوں کی طرف سے ہونے والی نا اہلی کسی طور بھی واپس نہیں ہو سکتی ۔عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ این اے154کے نتیجے پر بغلیں بجانے والے اپنی غلط فہمی دور کر لیں پی ٹی آئی کرپشن کے خلاف ملک کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئی ہے اور وہ کسی طور پیچھے نہیں ہٹے گی ،انہوں نے کہا کہ کرپٹ ٹولے کا پیچھا جاری رکھیں گے اور لوٹی ہوئی دولت کا ایک ایک پیسہ واپس لائیں گے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…