منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ ملک کی کس بڑی شخصیت نے پڑھائی، جنازے میں کتنے افراد شریک ہوئے ،تدفین قبرستان میں نہیں بلکہ کہاں کی جائے گی؟خاندانی ذرائع نے تصدیق کر دی

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کی معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ لاہور میں قذافی سٹیڈیم کے باہر این ایل سی گرائونڈ میں ادا کر دی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کے شرکا کی تعداد سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنازے کے شرکا کی تعداد 50ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عاصمہ جہانگیر کو لاہور کے کسی قبرستان میں سپرد خاک کرنے کے بجائے ان کے اہل خانہ نے انہیں بیدیاں روڈ پر واقع اپنے فارم ہائوس میں ان کی تدفین کا فیصلہ کیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ جماعت اسلامی کے بانی سید ابولاعلیٰ مودودیؒ کے جماعت اسلامی سے منحرف صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی۔ سید حیدر فاروق مودودی اس سے قبل عاصمہ جہانگیر کے بچوں کے نکاح بھی پڑھا چکے ہیں اور ان کے عاصمہ جہانگیر سے خاندانی تعلقات تھے۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کے بعد اس وقت ان کا جسد خاکی ایمبولینس میں رکھ کر بیدیاں روڈ پر واقع ان کے فارم ہائوس لے جایا جا رہا ہے جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔ فارم ہائوس پر تدفین کیلئے قبر بنا لی گئی ہے جبکہ تدفین کے دوران اہل خانہ اور قریبی عزیزوں کے علاوہ کافی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کا امکان ہے۔واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر دو روز قبل دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر سندھ حکومت نے صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جبکہ وفاقی حکومت سے تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ۔ عاصمہ جہانگیر کو جس وقت دل کا دورہ پڑا اس وقت وہ ن لیگ کے قائد نواز شریف سے موبائل فون پر محو گفتگو تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…