پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

’’تحریک انصاف اور عمران خان کے سارے خواب چکنا چور‘‘ راستے کی تمام رکاوٹیں ختم، نواز شریف کی سب سےبڑی خواہش پوری ، سپریم کورٹ سے آنیوالی خبر نے ہلچل مچادی

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئین کے آرٹیکل62ایف ون کے تحت سزا یافتہ کوئی بھی شخص حکومتی عہدے کیلئے نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے مگر یہ نا اہلی تاحیات ہوتی ہے یا اس کی مدت مقرر ہے اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 62ایف ون میں مبہم ہے جس کے تعین اور تشریح کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان دنوں کیس زیر سماعت ہے۔ یہ کیس اہمیت اس لئے اختیار کر چکا ہے کیونکہ

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلے میں آئین کے اسی آرٹیکل کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین بھی آئین کے اسی آرٹیکل کی زد میں آئے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 62ایف ون مبہم ہے لیکن عدالت کسی مبہم آرٹیکل کو کالعدم کیسے قرار دے سکتی ہے؟آئینی تشریح مشکل کام ہو گا، اس لئے ممکن ہے کہ نا اہلی کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کر دیں۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدالت نا اہلی مدت کا تعین کرنے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے ۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں پاکستان کے نامور وکلا نے دلائل دئیے۔ ان وکلا کے دلائل میں ایک نقطہ مشترکہ تھا کہ تاحیات نا اہلی نہیں ہونی چاہئے۔اپنے دلائل دیتے ہوئے ملک کی صف اول کی معروف خاتون وکیل مرحوم عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کیلئے کوئی نا اہلیت نہیں ہوتی،آرٹیکل 62ایف ون میں ابہام ہے، پاکستان میں جو لوگ ہیں انہیں سے کام چلانا ہے ، اتنے اعلیٰ معیار کے لوگ چاہئیں تو باہر سے لے آئیں پاکستان سے ملنا مشکل ہے، یہ واضح نہیں کہ کسی شخص کی شہرت کے اچھے اوربرے ہونے کا تعین کیسے ہو گا؟جو کام پارلیمنٹ نے نہیں کیا وہ عدالت کیسے کر سکتی ہے،سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی

پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے، آرٹیکل 62ایف ون کے تحت نا اہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ مدت 5سال ہونی چاہئے۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 62ایف ون اہلیت سے متعلق ضرور ہے مگر اس میں سزا نہیں زیادہ سے زیادہ نا اہلی 5سال کی ہونی چاہئے، نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑنے جواب داخل کیا اور کہا کہ تاحیات نا اہلی نہیں ہو سکتی، جہاں آئین خاموش ہے وہاں نا اہلی صرف

ایک مرتبہ کیلئے ہے، نااہلی صرف اس الیکشن کیلئے لاگو ہوگی جسے چیلنج کیا گیا ہو کیونکہ پارلیمنٹ نے مدت کا تعین نہیں کیا۔ معروف وکیل کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62اور 63کو ملا کر پرکھا جائے اور صرف ایک ٹرم کیلئے نااہلی ہونی چاہئےجبکہ نا اہل شخص اگلا ضمنی الیکشن لڑ سکتا ہے کیونکہ توبہ کا تصور موجود ہے، ڈیکلریشن کاغذات نامزدگی کے وقت سے نا اہلی تک موثر ہو گا۔

تحریک انصاف کے نا اہل رہنما جہانگیر خان ترین کے وکیل سکندر بشیر مومند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون اور روپا قانون میں نا اہلی تاحیات نہیں ہے، سنگین جرائم پر بھی الیکشن لڑنے کی قدغن کا تعین ہے، آرٹیکل 62ایف ون کے تحت نا اہلی دائمی نہیں ہوتی۔ کیس ٹو کیس مدت کے تعین کا حامی نہیں ہوں، تاحیات نا اہلی کی قدغن پارلیمنٹ نے نہیں عدالت نے لگائی ہے۔

کیس میں سپریم کورٹ کے معاون معروف وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنا کسی بھی پاکستانی شہری کا آئینی حق ہے۔ آرٹیکل 62میں الیکشن لڑنے میں رکاوٹ کی بات نہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں تاحیات نا اہلی کو ’’ٹائم بائونڈ‘‘کر دیا گیاہے۔ اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی تاحیات نا اہلی کی بھول بھلیوں سے نکلنے کی نیت واضح ہے پھر بھی دیکھنا ہو گا کہ عدالتی ڈیکلریشن سے

امیدوارپر الیکشن لڑنے کی قدغن کتنے عرصےکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…