منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

’’وزیراعلیٰ پنجاب‘‘ فارورڈ بلاک نہ بنانے اور خاموشی کی قیمت چوہدری نثار نے ڈیمانڈ بتا دی، بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چوہدری نثار علی خان آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں، نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ کام نہ کرنے کی باتیں صرف ایک بہانہ ہے اور وہ مسلسل پارٹی کو یہی پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس عہدے کے لیے آگے لایا جائے،نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ کام کرتے تھے

تب بھی وہ انہیں سر کہہ کر نہیں پکارتے تھے، لہذا اب مریم نواز کے معاملے پر بچوں کے نیچے سیاست نہ کرنے کا تاثر دینے کا اصل مقصد کچھ اور ہے، نبیل گبول کی نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو، اہم انکشاف کر ڈالا، ‘مریم نواز جس بھی جلسے میں جاتی ہیں عوام ان کے ساتھ ہوتی ہے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ عوام کی خواہش ہے کہ مریم نواز کو آگے لایا جائے، مریم کو پارٹی یا خود نواز شریف نے انتخابات کے بعد کوئی عہدہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی بڑی خبر دیدی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں، نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ کام نہ کرنے کی باتیں صرف ایک بہانہ ہے اور وہ مسلسل پارٹی کو یہی پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس عہدے کے لیے آگے لایا جائے،نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ کام کرتے تھے تب بھی وہ انہیں سر کہہ کر نہیں پکارتے تھے، لہذا اب مریم نواز کے معاملے پر بچوں کے نیچے سیاست نہ کرنے کا تاثر دینے کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔ پروگرام میں شریک وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی

اور ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ عوام کی خواہش ہے کہ مریم نواز کو آگے لایا جائے، مریم کو پارٹی یا خود نواز شریف نے انتخابات کے بعد کوئی عہدہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مریم نواز جس بھی جلسے میں جاتی ہیں عوام ان کے ساتھ ہوتی ہے اور اگر وہ ایک رہنما کے طور پر ابھر کرسامنے آرہی ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی عوامی مقبولیت ہی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل چوہدری نثار نے ٹیکسلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ وہ مریم نواز یا حمزہ شہباز کے ماتحت کام نہیں کرینگے۔وہ اپنے لیے پارٹی کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر سکیں۔ انہوں نے واضح طور پر پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 8 ماہ سے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا،

اگر پارٹی کے اندر سیاست میں متحرک ہوا تو پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ دوسری جانب لیگ (ن) میں یہ بات مستقل زیر بحث ہے کہ آئندہ انتخابات میں مریم نواز کو غیر معمولی ذمہ داریاں دی جانے کا امکان ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…