منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کے دو سابق اُمیدواروں نے ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے بغاوت کرنے کی دھمکی دے دی ،سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

بنوں (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے دو سابق اُمیدواروں نے ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے بغاوت کرنے کی دھمکی دے دی پارٹی کی بنیاد رکھنے والے کارکنوں کو نظر انداز جبکہ پیراشوٹ کے ذریعے آنے والے رہنماؤں کو اربوں روپے فنڈز دیئے گئے گزشتہ روز بنوں پریس کلب میں پاکستان تحریک انصاف کے حلقہ پی کے 72سے سابق اُمیدوا ر صوبائی اسمبلی سید پیر منیر آغا ،حلقہ پی کے 71سے سابق اُمیدوار مسعود خان ،

انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن بنوں یونیورسٹی کے صدر سید شاہ فہد آغا ،نوردراز خان وزیر اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبول ترین سیاسی جماعت بننے کی بنیاد کارکنوں نے رکھی پارٹی کارکنوں نے عمران خان کی سوچ پر بنی پارٹی منشور کے مطابق جدوجہد کیا اور پارٹی کو ملک کی مقبول سیاسی جماعتوں کی صفوں میں لا کھڑا کیا جس کیلئے کارکنوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے انتھک محنت کی اب پارٹی میں ملک ازم ،خان ازم اور جاگیر داروں کی روایتی سیاست کو فروغ مل رہی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پیراشوٹ کے ذریعے آنے والے رہنماؤں کو اربوں روپے کے فنڈز دیئے ہیں جنہوں نے پارٹی کارکنوں کو نظر انداز کرکے اپنے خلقوں میں من پسند افراد کو نوازا ہے اسی طرح صوبائی حکومت نے بھی چند خلقوں میں اپنے من پسند افراد کو نواز ا باقی کو حکومتی وسائل اور فنڈز سے محروم کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ پی کے 72سے انتہائی جوش جذبے سے عوام نے ملک شاہ محمد خان کو منتخب کیا لیکن انہوں نے صرف اپنی تجوریاں بھروانے اور من پسند افراد کو نوازنے کے علاوہ کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا جس سے کارکنوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات سال 2018کیلئے تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہے اب وزیر اعلیٰ پارٹی منشور سے ہٹ کر انہی لوگوں کو ٹکٹ دے رہے ہیں جس سے میرٹ کی دھجیاں اُ ڑ جائے گی انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،سپیکر اسد قیصر اور علی آمین گنڈہ پور سے مطالبہ کیا کہ وہ پارٹی منشور مطابق کارکنوں کی مشاورت سے فیصلے کریں اورنظریاتی کارکنوں کو مطمئن کرے بصورت دیگر کوئی بھی فیصلہ مسلط کئے جانے کی صورت میں پارٹی سے بغاوت کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…