منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وہ اعزاز جوعاصمہ جہانگیر کے علاوہ آج تک کوئی پاکستانی خاتون حاصل نہ کرسکی

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) معروف قانون دان مر حومہ عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار کی پہلی اور آخری خاتون صدر ہونے کا اعزاز‘حکومت پاکستان نے 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا‘ جنرل ضیاء کے مارشل لا کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریک میں حصہ لیا اور 1983 میں جیل بھی کاٹی، بینظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں لیکن دوستی کے باوجود عاصمہ جہانگیر نے بینظیر بھٹوکی سیاسی مخالفت کی۔تفصیلات کے مطابق

عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں اہم کرداراداکیااور 2007 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو اس عہدے پر فائز ہوئیں، عاصمہ جہانگیر کے بعد اب تک کوئی بھی خاتون سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب نہیں ہوسکی عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کولاہورمیں پیداہوئیں ، انہوں نے 1978 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیاعاصمہ جہانگیر نے ضیا کے مارشل لا کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریک میں حصہ لیا اور 1983 میں جیل بھی کاٹی، بینظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں لیکن دوستی کے باوجود عاصمہ جہانگیر نے بینظیر بھٹوکی سیاسی مخالفت کی۔ عاصمہ جہانگیرانسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے بانیوں میں سے تھیں، دریں اثنا عاصمہ جہانگیر ایڈ وکیٹ نے مقبوضہ کشمیرمیں ہونیوالے مظالم کا جائزہ لینے بھی گئی اور اقوام متحدہ کو رپورٹ میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق عاصہ جہانگیر پچھلے سال اقوام متحدہ کے ریپورٹیر کی حیثیت سے سری نگر گئی تھیں اور پھر واپس آ کر انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اندھا کرنے کے معاملے پر بہت ہی بھرپور موقف اپنایا تھا

ان کے بھرپور موقف اپنانے کے باعث مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی ان سے بہت محبت کرنے لگے تھے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر جمعہ کو آخری مرتبہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں ایک معطل اے ایس آئی کی ملازمت پر بحالی میں اپنا کردار ادا کیا۔تفصیلات کے مطابق عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ انسانی حقوق اور غیر یبوں کی مدد کیلئے بھی ہمیشہ آگے آگے رہی ہیں اور وہ جمعہ کو آخری بارسپر یم کورٹ میں پیش ہوئیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…