اسلام آباد(نیوزڈیسک)پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹراور ان کاؤنٹر سپیشلسٹ عابد باکسر کی کینیڈین شہریت منسوخ کرانے کیلئے درخواست، جعلی مقابلے میں مارے جانے کاخطرہ۔ تفصیلات کے مطابق مقامی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹراور ان کاؤنٹر سپیشلسٹ عابد باکسر کی جان کو خطرہ ہے اور پاکستان میں اس کو جعلی مقابلے میں مارے جانیکا خدشہ ہے،جبکہ عابد باکسر کی جانب سے کئے گئے پولیس مقابلوں اور ان میں ہلاک ہونے والے افراد سے
متعلق تفتیش کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی جائے گی۔ رپورٹ میں اعلیٰ سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عابد باکسر کے الزامات کی تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے گی لیکن حکومتی حلقوں کے اندر سے اس حوالے سے مخالفت پائی جاتی ہے اور اس بات کا قومی خدشہ ہے کہ کچھ بڑے سیاسی لوگ اور افسران گرفت میں آنے کے امکان کی وجہ سے عابد باکسر کو بھی جعلی پولیس مقابلے کا شکار کر سکتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جوائنٹ انویسی گیشن ٹیم میں عسکری، سول خفیہ اداروں ، پولیس کے افسران شامل ہونگے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عابد باکسر کونگران حکومت بننے کے بعد دبئی سے پاکستان لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ عابد باکسر کی تحویل کے ایسے طریقے کار سے اس کے جعلی مقابلے میں مارے جانے کے خدشات کم ہو جائیں گے اور وہ تفتیش میں بلا خوف و خطر ممکنہ ٹیم کو اپنے جرائم جو مبینہ طور پر اس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر افسران کی ایما پر کئے ہیں کے بارے میں بتا سکے گا جبکہ اس حوالے سے اس کے پاس موجود ریکارڈنگ سے متعلق بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جس کا اس نے دعویٰ کر رکھا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا عابد باکسر کے پاس کوئی پولیس مقابلے کا کوئیلکھا ہوا آرڈر بھی موجود ہے یا نہیں جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہو کہ اس کو اعلیٰ سیاسی شخصیت نے
کسی جعلی مقابلے کا براہ راست یا کسی سینئر افسر کے ذریعے حکم دیا ان کے مطابق اصل کام عابد باکسر کے الزامات عدالت میں ثابت کرنا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹر اور ان کاؤنٹر سپیشلسٹ عابد باکسر کی جانب سے کینیڈین شہریتکیلئے جمع کرائی گئی دستاویزات کو منسوخ کرانے کیلئے کینیڈین سفارتخانے سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ یہ رابطہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان افسران نے کیا ہے جنہوں نے پنجاب بھر میں خطرناک
اور دہشت کی علامت سمجھے جانے والے اشہاری مجرمان کی فہرست تیار کر کے انٹرپول اور دیگر ممالک کو بھجوائی تھی۔ ذرائع کے مطابق دبئی کی انتظامیہ کو بھجوائی جانے والی فہرست میں عابد باکسر کا نام نمایاں تھا، عابد باکسر نے دبئی میں مقامی باشندے سے دو ڈانسنگ کلب ٹھیکے پر لے رکھے تھے اور اس کا پارٹنر سہیل نامی شخص جو ایک معروف نجی نیشنل منی ایکس چینج کا کاروبار کرتا ہے اس کی وساطت سے دبئی میں معروف ڈانسنگ کلب کے مالکان کے عابد باکسر سے اچھے تعلقات بن گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق عابد باکسر لاہور پولیس کے متعددسینئر آفیسرز کے لئے درد سربنا ہوا تھا اور کوئی پولیس افسران کو اس نے فون پر بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی۔ یہ وہ پولیس افسران تھے جن کے ماتحت عابد باکسر تعینات رہااور مبینہ جعلی مقابلے کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق عابد باکسر اپنی گرفتاری سے چند روز قبل کینیڈا گیا جہاں پر اس نے شہریت حاصل کرنے کیلئے دستاویزات جمع کرائیں اور اس میں اس کے
پارٹنر سہیل نے اس کی معاونت کی۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے افسران کو اس حولاے سے انکشاف ہوا ہے کہ عابد باکسر کینیڈین شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس پر انہوں نے کینیڈین سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے اور انہیں عابد باکسر کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں جس پر اشتہاری اور جعلی مقابلوں کی تفصیلات شامل ہیں تاکہ عابد باکسر کو کینیڈین شہریت نہ مل سکے۔