پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

فیض آباد دھرنا ،وائرل آڈیو کی سہولت کس ادارے کے پاس ہے؟مظاہرین سے معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیوں استعمال ہوا؟عدالت میں حیرت انگیزانکشافات، حکومت مشکل میں پڑ گئی

datetime 9  فروری‬‮  2018 |
Pic18-034 ISLAMABAD: Nov 18 – Riot Police deployed at Faizabad as religious groups continues their sit-in despite the stern warnings was issued by Islamabad administration to clear the main artery, following the Islamabad High Court (IHC) order. The government decided to extend the deadline for another 24 hours for the protesters who are staging sit-in, chocked the main entry point of the capital and blocked movements of Islamabadites, Rawalpindites and thousands of people, who come to these cities every day from the suburbs and other cities and towns in connection with their mundane affairs, official jobs or businesses. ONLINE PHOTO by S M Sohail

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) پر برہمی کا اظہار اور آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ وائرل آڈیو کا پتہ کیوں نہیں چلا سکے، یہ بھی بتائیں کہ پاکستان میں یہ سہولت کس ادارے کے پاس ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی اور سماعت کے دوران انتظامیہ کی جانب سے

راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔بعد ازاں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکرٹری دفاع کو دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے کہا کہ سیکریٹری دفاع رپورٹ میں بتائیں کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیوں استعمال ہوا؟اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو عدالت میں پیش ہوئے تاہم وہ وائرل آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق رپورٹ پیش نہ کر سکے جس پر عدالت عالیہ نے ڈی جی آئی بی کی سرزنش کی اور 12 فروری تک رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹس جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے عدالت کو بتایا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ پر ایک ممبر کے دستخط نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزارت دفاع کو ویسے تو بڑا مان ہے انگریزی اچھی ہوتی ہے، پھر آپ کیوں شرما رہے ہیں؟ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت اور ڈیفنس کے آپس میں اختلافات ہیں، رپورٹس جمع نہ کرانے پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ اس معاملے کو کارپٹ کے نیچے دبانے کا موقع نہیں دیا جائیگا اور کسی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ موصوف نے فیض آباد میں بیٹھ کر عدلیہ کی تضحیک کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیئے کہ

چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر بکواس کی گئی اور آپ بس راضی نامہ کر کے بیٹھ گئے کہ جنرل صاحب نے دستخط کر دیئے ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ کی اور وزیر داخلہ، وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ڈی جی آئی بی سے رپورٹ مانگی تھی کہ بتائیں کہ وائرل آڈیو کس کی تھی؟ جس پر ڈی جی آئی بی نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کوئی آلات نہیں جس سے یہ پتہ چلایا جا سکے۔عدالت نے ڈی جی آئی بی سے استفسار کیا

کہ پاکستان میں یہ سہولت کس ادارے کے پاس ہے؟ جس پر ڈی جی آئی بی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم، صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے پاس یہ سہولت موجود نہیں، کسی اور سے متعلق بیان نہیں دے سکتے۔جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ آپ کیسے انٹیلی جنس سربراہ ہیں جسے وہ بات بھی معلوم نہیں جو عام آدمی بھی جانتا ہے، اگر آپ کو یہ بات معلوم نہیں تو آپ کس بات کے انٹیلی جنس سربراہ ہیں؟عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ صرف کسی خاص جگہ انسٹرومنٹ لگانے یا اہم شخصیات کے

ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا کام کرتے ہیں؟ اگر کسی دہشت گرد کی آواز کا موازنہ کرانے کی ضرورت پیش آئے جائے تو کیا کرتے ہیں؟جس پر ڈی جی آئی بی نے استدعا کی کہ آپ حکم دے دیں کہ آئی بی کو آواز کا موازنہ کرنے کے جدید آلات لے کر دیئے جائیں تاہم عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’میں یہ حکم کیوں نہ دوں کہ قومی خزانے پر بوجھ محکمے کو بند کر دیں، انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) تو پہلے ہی چاہتی ہے کہ آئی بی کو ان کے ساتھ ضم کر دیا جائے۔ڈی جی آئی بی نے عدالت کو بتایا کہ آئی بی نے انسداد دہشت گردی کے معاملے پر اہم کردار ادا کیا۔عدالت نے ڈی جی آئی بی کو آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ وائرل آڈیو کا پتہ کیوں نہیں چلا سکے، یہ بھی بتائیں کہ پاکستان میں یہ سہولت کس ادارے کے پاس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…