پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

بیٹی لاپتہ لیکن پولیس مدد نہیں کر رہی ،قصور کا شہری ہائیکورٹ پہنچ گیا،جواب مانگنے پر ڈی پی اونے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی شدید غصہ آئیگا

datetime 9  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر قصور میں گزشتہ ایک سال کے دوران  زینب سمیت  12 بچیاں قتل ہوچکی ہیں لیکن پولیس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور فرائض کی ادائیگی کی بجائے ان سے فرار کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ پولیس کی بے حسی کا ایک مظاہرہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں ایک شخص نے عدالت نے درخواست جمع کرائی کہ اس کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس کوئی مدد نہیں کرر ہی اور اسے بازیاب نہیں

کرایا جا رہا ۔ ہائیکورٹ کے حکم پرڈی پی او قصور زاہد نواز عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کے استفسار پر ڈی پی او قصور زاہد نواز نے بتایا کہ لڑکی پولیس کی حراست میں نہیں ہے۔ ڈی پی او کے جواب پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ 8 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ہوجاتی ہیں اور آپ کو پتہ نہیں چلتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او قصور کو 4 ہفتے میں لڑکی کی بازیابی کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ بچوں کے اغوا اور زیادتی میں بیشتر اپنے ہی رشتے دار ملوث پائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…