منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس محمد یاور علی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

لاہور(آن لائن)لاہورہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس محمد یاور علی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ، گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے نئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سیان کے عہدے کا حلف لیا ہے۔لاہورہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محمد یاور علی نے گورنر ہاس لاہور میں حلف برداری کی تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا- تقریب میں لاہو رہائیکورٹ کے جج صاحبان، وکلاتنظیموں کے عہدیداران اور اہم حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔

صدرِ مملکت نے جسٹس یاور علی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اوران کے پیش رو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔جسٹس محمد یاور علی لاہور ہائیکورٹ کے 47 ویں چیف جسٹس ہیں، وہ 22اکتوبر 2018کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچیں گے۔وہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کے رکن بھی رہے ہیں۔جسٹس محمد یاور علی 23اکتوبر1956کو لاہور میں پیدا ہوئے،او اور اے لیول ایچی سن کالج سے کیا، گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی اور پھراعلی تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے۔انہوں نے لیڈز یونیورسٹی سے ایل ایل بی ا نر اور بار ایٹ لاکی ڈگری مڈل ٹیمپل کالج سے حاصل کی، وطن واپس آکر لاہور ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔جسٹس یاورعلی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس یعقوب علی خان کے صاحبزادے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس خلیل الرحمان رمدے ان کے بہنوئی ہیں۔جسٹس محمد یاور علی 1995 سے 1997 تک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور 1997 سے 2008 تک ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔وہ پنجاب یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر بھی رہے انہوں نے قانون پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔جسٹس محمد یاور علی 19فروری2010کو لاہورہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے، وہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کے رکن بھی رہے، یہ عدالت ملک کی تمام ہائی کورٹس کے نامزد ججوں پر مشتمل تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…