ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہمسایہ ملک کی فوج نے پارلیمنٹ پر قبضہ کرلیا،کئی اراکین اسمبلی گرفتار،پورے ملک میں ہنگامی صورتحال،ہر طرف افراتفری

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

مالے(آئی این پی) مالدیپ میں سیکیورٹی فورسز نے ملک کی پارلیمنٹ کو بند کرکے حزب اختلاف کے 2 رہنمائوں کو گرفتار کرلیا ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق مالدیپ کی عدالتِ عظمی نے 2 روز قبل فیصلہ سنایا تھا کہ جلاوطن سابق صدر محمد نشید کا ٹرائل غیر آئینی ہے اور 9 ارکان پارلیمان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے سابق صدر سمیت حزب اختلاف کے دیگر رہنماں کا ازسر نو ٹرائل کا حکم دیا تھا۔ ان ارکان کی رہائی کی صورت میں پارلیمان میں

حزب اختلاف کو دوبارہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔حکومت نے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمان کو ہی معطل کر دیا تھا۔ ملک کے اٹارنی جنرل انیل نے وزارتِ دفاع کے سربراہ جنرل شیام اور پولیس کمشنر عبداللہ کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے سابق صدر محمد نشید کے حق میں فیصلہ دے کر ہمیں متنبہ کردیا ہے کہ اب ملک کے موجودہ صدرعبداللہ یامین کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوسکتی ہے اور انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے جسے ہم غیر قانونی سمجھتے ہیں، کیوں کہ اس کارروائی کے نتیجے میں سلامتی کا قومی بحران پیدا ہو سکتا ہے، لہذا سکیورٹی فورسز مالدیپ حکومت کے حکم کو مانتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے صدر عبداللہ یامین کو گرفتار کرنے یا مواخذے کی کارروائی کے کسی حکم پر عمل درآمد نہ کرے۔اٹارنی جنرل کی پریس کانفرنس میں فوج اور پولیس کے اعلی حکام کو حکومت کے دفاع میں اپنی جانیں دینے کا حلف اٹھاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے اور حکومت کے حکم کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ملک کی پارلیمنٹ کو قبضے میں لے کر حزبِ اختلاف کے 2 رہنماں کو گرفتار کرلیا ہے۔دوسری جانب حزب اختلاف کے سیکڑوں کارکن دارالحکومت مالے میں احتجاج کے لیے جمع ہو گئے

ہیں اور حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک کے آئین کا احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مالدیپ کی حزب اختلاف کی جماعت مالدیپیئن ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان حامد عبدالغفور کا کہنا ہے کہ پولیس رشوت لینے کے الزام میں دو اعلی ججوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہی تھی جس میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے اختیارات غصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔واضح رہے کہ مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔ انھوں نے صدر عبداللہ یامین اور حکومت سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…