ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ایک اور شہر سی پیک منصوبے میں شامل،وزیر اعظم نے قوم کو شاندار خوشخبری سنا دی

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

چترال(سی پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ پاکستان کو ایک درست سمت پر ڈال دیا گیا ، نوازشریف کی پالیسی کی سے پاکستان کی ڈوبتی معیشت بحال ہوئی، جولائی میں عوام نے درست فیصلہ کرنا ہے اور اگر درست فیصلہ کیا تو ترقی کا سفر چلتا رہے گا،گولن گول منصوبے کے بعد چترال میں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی، منصوبہ اتنی بجلی پیدا کریگا کہ چترال کی بجلی کی ضرورت پوری ہوجائیگی۔چترال میں گولن گول ہائیڈرو پاور

پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گولن گول منصوبے کے بعد چترال میں کبھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی اور یہ منصوبہ اتنی بجلی پیدا کرے گا کہ چترال کی بجلی کی ضرورت پوری ہوجائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں حکومتی وسائل کبھی یہاں تک نہیں پہنچے لیکن آج چترال سی پیک منصوبے میں شامل ہونے جارہا ہے جہاں اربوں روپے کی سڑکیں بنائی جارہی ہیں اور یہاں گیس کا مسئلہ بھی حل کیا جائیگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک درست سمت پر ڈال دیا گیا ہے،نواز شریف کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی ڈوبتی معیشت بحال ہوئی، جولائی میں عوام نے درست فیصلہ کرنا ہے اور اگر درست فیصلہ کیا گیا تو ترقی کا سفر چلتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے چترال کے علاقے میں کبھی بھی ترقی کے لئے نہیں سوچا ہماری حکومت نے چترال کے لئے بہت کام کیا ہے اور ہم نے اپنے سارے منصوبے مکمل کئے ہیں ہم نے صرف تختیاں نہیں لگائیں لوگوں کو کام کر کے دیا ہے بس یہی فرق ہے ہماری حکومت میں اور دوسرے لوگوں کی حکومت میں،لواری ٹنل کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، ملک میں گیس اور بجلی کے مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ چترال میں گیس کا مسئلہ حل کیا گیا جائے گا

پاکستان میں دن دبدن ترقی کی شرح بڑھ رہی ہے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ چترال کے اس منصوبے کے لئے تاخیر ہوئی جو نہیں ہونی چاہے تھی ۔گولن گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ منصوبے سے مجموعی طور پر 108 میگاواٹ بجلی 20 اگست 2018 تک قومی نظام میں شامل ہوجائے گی جب کہ اس منصوبے کا پہلا یونٹ آپریشنل ہوگیا ہے۔منصوبے کا دوسرا یونٹ مارچ اور تیسرا مئی میں فعال ہوگا، پہلے یونٹ سے پیدا ہونے والی 36 میگاواٹ بجلی چترال اور ملحقہ علاقوں کو فراہم کی جائیگی جب کہ منصوبے سے قومی خزانے کو 3 ارب 70 کروڑ روپے سالانہ فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…