اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چین اور نیپال کے درمیان ماونٹ ایورسٹ پر سبقت کی جنگ

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ماونٹ ایورسٹ صرف دنیا کی بلند ترین چوٹی ہی نہیں بلکہ یہ نیپال اور چین کے درمیان سرحد بھی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، گذشتہ کئی عشروں سے دونوں ممالک کی حکومتیں کوہ پیماوں میں مقبول اس عظیم چوٹی پر جانے والے مہم جووں کو اپنے اپنے ملکی قوانین کے مطابق اجازت نامے یا پرمٹ دے رہی ہیں۔ چونکہ دونوں ملکوں کے قوانین ایک جیسے نہیں۔

اس لیے یہ کام دونوں کے لیے دردِ سر رہا ہے۔ اب چونکہ اس عظیم پہاڑ کو دیکھنے اور اسے سر کرنے کی خواہش لے کر یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے اور نیپال کی جانب سے یہاں آنے والوں کے لیے حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں۔دنیا کی کوہ پیما برادری اور چینی حکام پہاڑ کی شمالی جانب بہتر انتظامات اور ایک پھلتی پھولتی سیاحتی معشیت کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک نئے منصوبے کے تحت چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 ہزار 29 فٹ بلند اس چوٹی پر پہنچنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے خرچ سے ایک نیا راستہ بنائے گا۔ چین کے بقول مجوزہ نئے راستے پر حفاظتی انتظامات بھی نیپال کی نسبت بہت بہتر ہوں گے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ چین نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ہر سال کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے تبت میں واقع ایورسٹ کی شمالی چوٹی کو جانے والے راستے پر لگی ہوئی رسوں کی بھی مرمت کرے گا تاکہ بین الاقوامی حفاظتی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ نیپال گذشتہ عرصے میں اس قسم کے حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ چین کو امید ہے کہ کوہ پیماوں کو زیادہ محفوظ اور قابل بھروسہ انتظامات فراہم کرنے سے ملک کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور زیادہ سے زیادہ مہم جو چین کے راستے مانٹ ایورسٹ سر کرنے آئیں گے۔

چینی قوائد کے مطابق صرف ایسے افراد کو ماونٹ ایورسٹ پر جانے کی اجازت دی جائے گی جو اس سے پہلے آٹھ ہزار میٹر ( 26 ہزار 247 فٹ) سے زیادہ کی چوٹی کو سر کر چکے ہوں۔ اس قانون کا مقصد غیر تربیت یافتہ کوہ پیماوں اور غیر معیاری سیاحتی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ چین کے سرکاری حکام اور کئی نجی کمپنیاں اس نئے منصوبے کے حوالے سے بہت پرامید ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک تین بڑی سیاحتی کمپنیاں نیپال میں اپنا کاروبار بند کر چکی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے پہلے تبت میں مانٹ ایورسٹ کو جانے والا ایک نیا راستہ، پھنس جانے والے کوہ پیماں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس اور چین کے نئے قوائد و ضوابط، ہر چیز مکمل تیار ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…