ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ازخود نوٹس آلو اور پیاز کے نرخ پر نہیں ہوتے ، مارشل لاء لگنے اور ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر ہوتے ہیں،کیپٹن(ر) صفدر

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن(ر) صفدر نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال میں حکومت اپنی لگ رہی تھی لیکن درحقیقت ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کبھی نیوز لیکس اور کبھی دھرنوں سے ہمیں باندھا گیا ۔ جمعہ کے روز احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن(ر) صفدر نے کہاکہ گزشتہ چار سال میں حکومت اپنی لگ رہی تھی لیکن درحقیقت ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جب تک

سیاستدانوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کے حالات جب بھی بدل رہے ہوتے ہیں وزیر اعظم نااہل ہو جاتا ہے ۔ واجد ضیا ء نے ایک غلط رپورٹ بدنیتی کی بنیاد پر دی ۔ واجد ضیا سے صرف دستخط لئے گئے ۔ رپورٹ کہیں اور تیار ہوئی ۔ اللہ ہی واجد ضیا ء کو معاف کرے تو کر ے ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو معاف کرنے سے اللہ ناراَض ہوتا ہے اور اس جے آئی ٹی کی خود ساختہ رپورٹ پر کیس چلایا جا رہا ہے ۔ 22 کروڑ عوام کو تباہی کے دہانے پر لانا ریاست کے لئے خطرہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے قانون میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان کی گنجائش نہیں کیسے پتہ چلے گاکہ بیان ریکارڈ کرانے والا واجد ضیا ء ہے یا اس کا کزن کیونکہ واجد ضیا اکیلا نہیں ۔ واجد ضیا اینڈ کمپنی ہے ۔ قطری شہزادے کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے یکارڈ نہیں کیا گیا تھا تو واجد ضیا کا کیوں ہو گا ۔ توہین عدالت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں پیروں والی جے آئی ٹی کے سامنے بھی پیش ہو گیا تھا تو سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش ہو جاؤں گا ۔ سپریم کورٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے اس لئے رولنگ اسٹون نہ بنائیں۔ ازخود نوٹس آلو اور پیاز کے نرخ پر نہیں ہوتے ۔ مارشل لاء لگنے اور ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…