ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

میر ہزار خان بجارانی کو قتل کیا گیا یا خود کشی تھی؟ واقعہ نیا رُخ اختیار کر گیا، تمام گولیاں نشانے پر نہیں لگیں بلکہ تین گولیاں۔۔۔! حیرت انگیز انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیفنس کے علاقے میں گھر سے صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملی ہیں جس کے بارے کہاجا رہا ہے کہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پیش آیا اور اس وقت ملازمین بھی گھر پر نہیں تھے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق جس وقت واقعہ پیش آیا اس وقت ملازمین گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پیش آیا،

دونوں میاں بیوی کے سر میں ایک ایک گولی لگی جبکہ ایک گولی کا نشان دیوار پر بھی موجود تھا اور مس ہو جانے والی تین گولیاں چیمبر میں موجود ہیں، میر ہزار خان بجارانی کی لاش صوفے پر پڑی تھی جبکہ اہلیہ کی لاش فرش پر پڑی تھی۔دریں اثناء ڈیفنس کے علاقے میں گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ فریحہ رزاق کی لاشیں ملی ہیں، کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملی ہیں۔ صوبائی وزیر کے پرائیوٹ سیکریٹری اللہ ورایو نے تصدیق کی ہے کہ میر ہزار خان بجارانی مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق میر ہزار خان بجارانی اور انکی اہلیہ فریحہ رزاق کو گولیاں لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق اہل خانہ کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ توڑ کر دونوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ون فائیو پر اطلا ع ملی تھی کہ ایک گھر سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔میر ہزار خان بجارانی1974 اور 1977میں سندھ کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔وہ مسلسل چار انتخابات سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ان کے صاحبزادے بھی رکن اسمبلی تھے۔سن2013 کے عام انتخابات میں میر ہزار خان بجارانی سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 16 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، ان کے پاس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کا قلمدان تھا۔میرہزار خان بجارانی جیکب آباد سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

مرحوم پی ایس 16 جیکب آباد سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور سندھ کے وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ تھے۔میر ہزار خان بجارانی کا تعلق کرم پور تعلقہ تنگوانی ضلع کشمور کندھ کوٹ سے تھا۔ وہ وزیر تعلیم اور وزیر صنعت و پیداوار بھی رہ چکے ہیں۔مرحوم نے 1966 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، افسوسناک اطلاع کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماان کے گھر پہنچ گئے۔ادھرنجی ٹی وی دنیا نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دونوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ میر ہزار خان بجارانی نے خودکشی کی ہے کیونکہ گولیاں ان کے سر میں لگی ہیں۔ انہوں نے پہلے اپنی اہلیہ کو قتل کیا اور پھر خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے جائے وقوعہ نے اسلحہ اور گولیوں کے خول بھی برآمد کر لئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…