منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

قصور کی کمسن بچیوں کا سیریل کلر عمران کیا بچ کر نکل جائے گا ملزم کی ایسی چالاکی کہ پولیس سر پکڑ کر بیٹھ گئی،ماں نے گرفتاری میں مدد انسانی ہمدردی کیلئے نہیں بلکہ کیوں کی؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قصور کی زینب اور دیگر بچیوں کے قاتل عمران نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان دینے سے انکار کر دیا ہے اور پولیس کے پاس سوائے ڈی این اے کے علاوہ کوئی شہادت موجود نہیں جس کی وجہ پولیس کے افسران تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زینب قتل کیس

کے ملزم عمران علی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اقبال بیان دینے سے مبینہ طور پر انکار پر تفتیشی ٹیم تذبذب کا شکار ہے کیونکہ پولیس کے پاس ڈی این اے کے سوا اس کیس میں کوئی تائیدی شہادت موجود نہیں۔ ملزم نے دوران تفتیش اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات کو جرم کی بنیادی وجہ بتایا ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ قتل و ریپ ملزم کا انفرادی فعل تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش مبینہ انکشاف کیا کہ وہ خاندانی افراد کے ہاتھوں بھی زیادتی کا شکار ہوتا رہا۔ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے خواتین کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔ سینئر افسر نے مزید بتایا کہ اس کو پولیس نے دو دفعہ تفتیش کیلئے حوالات میں بند کیا لیکن بیماری کا بہانہ بنانے پر پولیس نے اس کے مرجانے کا خدشہ ہونے پر اس کو چھوڑ دیا تھا۔ گرفتاری کے بارے میں سینئر افسر نے بتایا کہ زینب کی نعش کی برآمدگی کے بعد جب پنجاب حکومت نے ملزم کی گرفتاری کیلئے ایک کروڑ انعام کا اشتہار دیا تو ملزم کے حقیقی چچا نے شک اور ملزم کا ماضی دیکھتے ہوئے اس کی والدہ سے بات کی کہ انعام کی خاطر اس کو گرفتار کروا دیتے ہیں پہلے تو ماں مان گئی لیکن بعد میں اس نے انکار کردیا جس کا ملزم کو پتہ چلا تو گرفتاری سے بچنے کیلئے وہ پاک پتن چلا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زینب کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملزم کو گرفتار کرایا جس

میں صداقت نہیں۔ ملزم کو ڈی این اے مثبت آنے پر پکڑا گیا، انعام کی رقم لینے کیلئے تمام لوگ اپنےاپنے دعوے کر رہے ہیں، ملزم کریمنل ذہن کا مالک ہے، یہ درندہ اپنی ہوس کیلئے چھوٹی بچیوں کا انتخاب کرتا تھا۔ ملزم کا کسی مافیا یا گینگ سے ابھی تک کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ ماہر قانون دان صفدر شاہین پیرزادہ نے بتایا کہ پولیس کو دوران ریمانڈ ملزم کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے

اقبالی بیان زیر دفعہ 164ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کرانا ہوتا ہے جس کی کیس میں سزا دینے کیلئے قانونی حیثیت ہوتی ہے ۔ آٹھ دن گزرنے کے بعد اگر پولیس تفتیش کے دوران ملزم کااعترافی بیان ریکارڈ نہیں کرا سکی تو اس کا مطلب ہے کہ ملزم چالاک اور تفتیشی ٹیم کو چکر دیتا ہے، پولیس کے سامنے دئیے اقبالی بیان کو عدالت میں بطور شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا جس پر سزا یا جزا دی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…