ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

فیصلے جلد، پالیسی جاری، کرایہ داری، فیملی تنازعات اور بچوں کی تحویل جیسے مقدمات 6 ماہ میں نمٹانے کا حکم‎

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مقدمات میں تاخیر کی چھان پھٹک اور زیر التوا مقدمات کی بڑھتی تعداد سے نمٹنے کے لئے پوری عدلیہ کو نئے رہنما پالیسی خطوط جاری کردیئے ہیں۔ جس میں یہ ہدایات بھی شامل ہیں کہ احکام امتناع، کرایہ اور وراثت سے متعلق مقدمات کافیصلہ 6؍ ماہ میں ہوجانا چاہئے۔ ضلعی عدلیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ دلائل سننے کے

بعد 30؍ دن میں فیصلہ دے جبکہ ہائی کورٹس میں فیصلہ تین ماہ سے زائد عرصہ کے لئے محفوظ نہیں ہونا چاہئے۔روزنامہ جنگ کے سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق  باخبر ذرائع کا کہنا ہےکہ قومی عدلیہ پالیسی ساز کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس میں ایکسپرٹ کورٹ /اسپیشل ڈیڈی کیٹڈ کورٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیاتھا جو کرایہ /فیملی/ بچوں کی نگہداشت جیسے خصوصی مقدمات کا فیصلہ کرسکے۔ عمومی تنازعات کے بروقت حل کے لئے کمیٹی نے کہا کہ اس کے لئے تنازعات کے حل کیلئے متبادل طریقے بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔ زیر التوا مقدمات میں خاطر خواہ کمی کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا جائے۔ تاخیر سے نمٹنے کے لئے نوٹس اور سمن جاری کرنے کے موجودہ عمل میں بہتری لائی جائے۔ کمیٹی کا گزشتہ اجلاس 13؍ جنوری 2018ء کو کراچی میں ہوا تھا۔ توقع ہے کہ آئندہ اجلاس 15؍ دنوں کے اندر ہوگا۔ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن باتوں پر اب تک غور اور فیصلے ہوچکے، پوری عدلیہ کو اس سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ضلعی عدالت دلائل کی سماعت کے بعد 30؍دنوں میں اور ہائی کورٹس تین ماہ میں فیصلے سنادیں۔ عدالتوں کو مقدمات کی ازسرنو سماعت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ کرایہ، وراثت اور خاندانی مقدمات کے فیصلے 6؍ ماہ میں کردیئے جائیں۔

فوری انصاف کی فراہمی کے لئے کمیٹی نے عدالتی شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں۔ اسی حوالے سے عدلیہ سے متعلق تمام شعبوں کو ہدایات جاری کی گئیں۔ پارلیمنٹ پر زور دیاگیا کہ قوانین کو موجودہ ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کریں۔ اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ کم کرنے کے لئے ٹرائل کورٹس مقدمات کے فیصلے قانون کے مطابق کریں۔ ہائی کورٹس ماتحت عدلیہ پر کارکردگی کے حو الے سے مسلسل نظر رکھیں۔ آبادی کی بنیاد پر جج کا مقدمات سے تناسب بہتر بنانے کی اور کرمنل جسٹس سسٹم میں بہتری کے لئے تحقیقی و تفتیشی ایجنسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ججوں کی تربیت کے لئے جوڈیشیل اکیڈمیوں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ ججوں کے لئے سول اور کرمنل قانون پر بنیادی اصولوں پر مبنی بنچ بکس شائع کی جائیں ۔ ہائی کورٹس کو چاہئے کہ وہ صوبائی جسٹس کمیٹیوں کو دوبارہ متحرک کریں۔ مقدمات کی تیزی سے سماعت اور نمٹانے کے لئے انتظامی ٹریبونلز اور خصوصی عدالتوں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ بھی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…