ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نقیب کیساتھ مارے گئے قاری اسحاق کے ورثا کا را ؤانوار کیخلاف مقدمے کا اعلان

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(اے این این ) شاہ لطیف ٹان میں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے ساتھ مارے گئے قاری اسحاق کے ورثا نے بھی سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا۔لواحقین کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف ٹان جعلی مقابلے میں مارا گیا محمد اسحاق سوا سال سے لاپتہ تھا اور اسے سوا سال قبل احمد پور شرقیہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔بھائی محمد یوسف کے مطابق محمد اسحاق احمد پور شرقیہ کے گاوں حیدر پور لنگ گراواں

کا رہائشی تھا اور گاں میں واقع مدرسہ تعلیم القران کا مہتمم تھا۔بھائی کا کہنا ہے کہ اسحاق نے میٹرک کے بعد دارلعلوم مدنیہ بہاولپور سے حدیث کی تعلیم مکمل کی اور 1997 سے 2000 تک مدرسہ نظامیہ میں درس نظامی پڑھایا۔اہلخانہ نے بتایا کہ 11 نومبر 2016 کو پولیس موبائل اور کاروں میں سوار سادہ لباس اہلکار محمد اسحاق کو مدرسے سے اٹھا کر لے گئے تھے جب کہ کچھ عرصے بعد دوسرے بھائی زکریا کو بھی زیرحراست رکھ کر 8 ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔بھائی کے مطابق محمد اسحاق کے لاپتہ ہونے کے دوران والدہ بھی صدمے سے انتقال کرگئیں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہ لطیف ٹان میں پولیس مقابلے کی خبر پڑھ کر محمد اسحاق کی لاش شناخت کرکے وصول کی جس کے بعد مقتول کو آبائی گاں میں سپردخاک کردیا گیا۔ اسحاق کے بھائی کا کہنا ہے کہ اسحاق بے گناہ تھا، راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور جلد کراچی آکر مقابلے کی انکوائری کمیٹی کو بیان ریکارڈ کرائیں گے۔یاد رہے کہ رواں ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر را انوار نے شاہ لطیف ٹان میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر نوجوان نقیب اللہ محسود کی تصاویر سامنے آنے کے بعد معاملے کی انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔انکوائری کمیٹی نے نقیب اللہ محسود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے مقابلہ جعلی قرار دیا تھا اور سابق ایس ایس پی را انوار کو عہدے سے ہٹاکر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔دوسری جانب گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پولیس کو را انوار کو گرفتار کرنے کیلئے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…