ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نقیب کیساتھ مارے گئے قاری اسحاق کے ورثا کا را ؤانوار کیخلاف مقدمے کا اعلان

datetime 28  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(اے این این ) شاہ لطیف ٹان میں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے ساتھ مارے گئے قاری اسحاق کے ورثا نے بھی سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا۔لواحقین کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف ٹان جعلی مقابلے میں مارا گیا محمد اسحاق سوا سال سے لاپتہ تھا اور اسے سوا سال قبل احمد پور شرقیہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔بھائی محمد یوسف کے مطابق محمد اسحاق احمد پور شرقیہ کے گاوں حیدر پور لنگ گراواں

کا رہائشی تھا اور گاں میں واقع مدرسہ تعلیم القران کا مہتمم تھا۔بھائی کا کہنا ہے کہ اسحاق نے میٹرک کے بعد دارلعلوم مدنیہ بہاولپور سے حدیث کی تعلیم مکمل کی اور 1997 سے 2000 تک مدرسہ نظامیہ میں درس نظامی پڑھایا۔اہلخانہ نے بتایا کہ 11 نومبر 2016 کو پولیس موبائل اور کاروں میں سوار سادہ لباس اہلکار محمد اسحاق کو مدرسے سے اٹھا کر لے گئے تھے جب کہ کچھ عرصے بعد دوسرے بھائی زکریا کو بھی زیرحراست رکھ کر 8 ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔بھائی کے مطابق محمد اسحاق کے لاپتہ ہونے کے دوران والدہ بھی صدمے سے انتقال کرگئیں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہ لطیف ٹان میں پولیس مقابلے کی خبر پڑھ کر محمد اسحاق کی لاش شناخت کرکے وصول کی جس کے بعد مقتول کو آبائی گاں میں سپردخاک کردیا گیا۔ اسحاق کے بھائی کا کہنا ہے کہ اسحاق بے گناہ تھا، راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور جلد کراچی آکر مقابلے کی انکوائری کمیٹی کو بیان ریکارڈ کرائیں گے۔یاد رہے کہ رواں ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر را انوار نے شاہ لطیف ٹان میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر نوجوان نقیب اللہ محسود کی تصاویر سامنے آنے کے بعد معاملے کی انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔انکوائری کمیٹی نے نقیب اللہ محسود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے مقابلہ جعلی قرار دیا تھا اور سابق ایس ایس پی را انوار کو عہدے سے ہٹاکر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔دوسری جانب گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پولیس کو را انوار کو گرفتار کرنے کیلئے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…